جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان نے شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے جماعت کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو تھانوں میں طلب کرنے اور حراست میں لینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بلاوجہ اور کسی قانونی جواز کے بغیر تھانوں میں حراست میں رکھ رہی ہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ کارروائیاں ’فارم 47 کی پیداوار‘ حکومت کی ایما پر کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد شہر میں تعمیر و ترقی اور عوامی خدمت کے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔
انہوں نے واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کورنگی کی یوسی 7 زمان ٹاؤن کے چیئرمین خورشید اقبال کے گھر پولیس موبائل بھیج کر انہیں تھانے طلب کیا گیا، جہاں بعد ازاں انہیں باہر جانے سے روک کر حراست میں لے لیا گیا۔
’اسی طرح چنیسر ٹاؤن کے کونسلرز اطہر امام اور مجاہد کو تھانہ ٹیپو سلطان بلا کر حراست میں رکھا گیا، جبکہ جناح ٹاؤن کی یوسی 1 کے وارڈ کونسلر ساجد جیلانی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان کے مطابق سولجر بازار کے وارڈ کونسلر اور اللہ گل کو تھانہ سائٹ سپر ہائی وے، ضلع شرقی میں حراست میں رکھا گیا ہے۔‘
منعم ظفر خان نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو حراست میں لینے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی کاموں کے لیے اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
دوسری جانب پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ متعلقہ نمائندوں اور دیگر افراد کو سیاسی انتقام کی بنیاد پر نہیں بلکہ امن و امان برقرار رکھنے، ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد یقینی بنانے اور بعض مقامی تنازعات کی تصدیق اور انکوائری کے سلسلے میں تھانوں میں طلب کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق قانون تمام شہریوں اور منتخب نمائندوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے، اور اگر کسی شخص کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے یا انتظامی نوعیت کی شکایات موصول ہوں تو ان کی قانون کے مطابق چھان بین کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔








