ماریہ بی کی بچوں کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنے والی خواتین پر تنقید، کفالت کا سوال اٹھا دیا

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے طلاق کے بعد بچوں کو یتیم خانوں میں چھوڑ کر دوسری شادی کرنے والی خواتین اور بچوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے والے مردوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی موجودگی کے باوجود بچوں کا یتیم خانوں میں پرورش پانا تشویش ناک ہے۔

ماریہ بی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں یتیم خانوں میں رہنے والے بچوں کے انٹرویوز شامل تھے۔ ویڈیو میں کئی بچوں نے بتایا کہ والدین کی طلاق کے بعد ان کی ماؤں نے دوسری شادی کرلی اور انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دیا، جس کے بعد نہ مان اور نہ باپ نے ان کی خبر گیری کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’آپ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں‘، ماریہ بی کی عورت مارچ پر تنقید

ماریہ بی نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض خواتین کی طلاق کے بعد دوسری شادی کے وقت خاندان کی جانب سے یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ساتھ نہیں رکھ سکتیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں بچوں کی ذمہ داری کون اٹھائے گا، جبکہ ان کے والد، نانا، ماموں اور چچا بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کی کفالت مردوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن جب خاندان اپنے بچوں کو قبول نہیں کرتے تو انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں وہ استحصال اور جنسی زیادتی سمیت مختلف خطرات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں مبینہ اخلاق باختہ جنسی پارٹی پر ماریہ بی کا ردعمل

ماریہ بی کا کہنا تھا کہ ایسے بچے جن کے والدین اور خاندان زندہ ہوں، انہیں یتیم خانوں میں چھوڑ دینا افسوس ناک ہے، جبکہ بعد میں ان کی خیریت معلوم کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے پاکستانی خاندانوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے معاملے میں اللہ سے ڈریں اور ان کی ذمہ داری سے غفلت نہ برتیں۔

فیشن ڈیزائنر نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اکیلی ماں کے لیے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا، تاہم خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور مالی طور پر خود مختار بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق خواتین کو اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے محنت کرنی چاہیے اور اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عفان قیصر نے ماریہ بی سے معافی کیوں مانگی؟

ماریہ بی نے ان مردوں اور ان کے خاندانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو بچوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے مستقبل میں اپنی ماؤں کا سہارا بن سکتے ہیں، جبکہ وہ مرد اور خاندان مشکل وقت میں ان کے کام نہیں آتے جنہوں نے بچوں کو قبول کرنے سے انکار کیا ہوتا ہے۔

ماریہ بی کی اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی ردعمل دیا اور بچوں کے حقوق اور ان کی پرورش کی ذمہ داری سے متعلق آگاہی اجاگر کرنے پر ان کی حمایت کی۔ بعض طلاق یافتہ خواتین نے تبصروں میں بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہیں کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی بدحالی بے نقاب، 627 اسکول غیرفعال، 11 پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں