حکومت نے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی، 40 سال بعد نئی قومی گندم پالیسی تشکیل

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کردی ہے، جبکہ 40 سال بعد جامع قومی گندم پالیسی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ گندم کی نئی قیمت کا تعین تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ اور انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں زرعی شعبے کی بہتری کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح پاکستانی کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔

گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے کا فیصلہ

رانا تنویر حسین نے بتایا کہ رواں سال ملک میں گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔ پاکستان میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، اس لیے عوام کو کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں اور رواں سال ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاسکو کے ذخائر سے اب تک صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ صوبائی حکومتوں کی طلب کے مطابق ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت درآمدی گندم کے بجائے مقامی کسانوں سے گندم خریدنے کو ترجیح دے گی تاکہ ملکی زرعی شعبے کو مستحکم اور کسانوں کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔

گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مصنوعی قرار

رانا تنویر حسین نے گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے منڈی میں مداخلت کے باعث قیمتوں میں غیرضروری اضافہ ہوا ہے، تاہم آئندہ چند روز میں قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور بلاجواز قیمتیں بڑھانے کی کوششوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت گندم کی منڈی اور قیمتوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

زرعی پیداوار بڑھانے اور پیداواری لاگت کم کرنے پر توجہ

وفاقی وزیر نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بیج، زیتون اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پالیسیاں تشکیل دی گئی ہیں، جبکہ کسانوں کو معیاری بیجوں کی فراہمی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ قومی گندم پالیسی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اور کسان تنظیموں کے ساتھ تعاون اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

پاکستان کسان اتحاد کا حکومتی فیصلے کا خیرمقدم

دوسری جانب پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ گندم کی قیمت کے تعین کے لیے تمام صوبوں سے مشاورت خوش آئند اقدام ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب اور مستحکم قیمت ملنا ضروری ہے تاکہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی بدحالی بے نقاب، 627 اسکول غیرفعال، 11 پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں