پاکستان تحریک انصاف کے فلیگ شپ منصوبے صحت کارڈ پلس کے تحت علاج معالجے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے محکمہ صحت نے بڑے پیمانے پر انکوائری شروع کردی ہے، جس کے تحت تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ آفیسر کے مطابق صحت کارڈ سے متعلق یہ اب تک کی سب سے بڑی انکوائری ہے۔
محکمہ صحت نے انکوائری کو دو مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں صحت کارڈ پلس کے پینل پر موجود 200 سے زیادہ نجی اسپتالوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جس میں صحت کارڈ کے تحت داخل مریضوں کے علاج، بالخصوص سرجریز، ادویات اور ادائیگیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
انکوائری ٹیم نے 2019 سے 2026 تک کا ریکارڈ طلب کیا ہے، جس میں بلیک لسٹ کیے گئے نجی اسپتالوں کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتالوں کے معاملات کی تحقیقات کی جائیں گی۔
محکمہ خزانہ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت 2014 سے اب تک صحت کارڈ کی مد میں 125 ارب روپے خرچ کرچکی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران صوبے کے بندوبستی اور قبائلی اضلاع کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کے تحت علاج معالجے کی سہولت 2014 میں شروع کی گئی تھی، جبکہ 2019 میں اسے یونیورسل ہیلتھ کوریج کا درجہ دے کر صوبے کے تمام شہریوں کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا۔
واضح رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تحریک انصاف پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ صحت کارڈ کے نام پر بڑے پیمانے پر کرپشن کی جاتی ہے۔ اب خیبرپختونخوا میں ہونے والی انکوائری میں حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔








