رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ نے کہا ہے کہ پیرا فورس کی گاڑی ان کے پروٹوکول میں شامل نہیں تھی بلکہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں جا رہی تھی، اس لیے غلط فہمی کی بنیاد پر یہ معاملہ پیش آیا، جس کی باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ مومنہ اقبال ہراسگی کیس: جے آئی ٹی نے لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کو بے قصور قرار دے دیا
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی کی جانب سے ثاقب چدھڑ سے سوال کیا گیا کہ ڈی سی جھنگ آپ کے پروٹوکول کی وجہ سے فارغ کردیے گئے ہیں، اس پر کیا کہنا چاہیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پیرا فورس کی گاڑی میرے پروٹوکول میں شامل نہیں تھی بلکہ وہ اپنے کام کے سلسلے میں نکلی تھی۔ یہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا ہے، اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری کرلینی چاہیے۔
ثاقب چدھڑ سے ویڈیو میں پیرا فورس کی گاڑی کے ساتھ اے ڈی سی انفورسمنٹ رب نواز بھوآنہ کی موجودگی سے متعلق بھی سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ جب وہ ریلی میں پہنچے تو وہاں انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی موجود تھے، جیسا کہ معمول کے مطابق ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، عروبہ مرزا کے الزامات پر ثاقب چدھڑ کا سخت ردعمل
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس معاملے پر کارروائی کے فیصلے سے متعلق سوال پر ثاقب چدھڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہماری رہنما ہیں، ہماری وزیراعلیٰ ہیں، انہوں نے کچھ سوچ کر فیصلہ کیا ہوگا، اس کارروائی کے پیچھے بھی بہت سی دوسری وجوہات ہوسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز تھل جیپ ریلی کے موقع پر رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے غیرمعمولی پروٹوکول کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جھنگ بابر صاحب دین کو عہدہ سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا۔











