عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

پیر 26 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا گیا، ایران جنگ کے اثرات اور گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث مہنگائی کو 7 فیصد کی حد میں لانے کا ہدف بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے فیصلے کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ ہے اور خام تیل فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ حکومت نے کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ مقامی صارفین پر منتقل نہیں ہوا، تاہم اس کے باوجود توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا مہنگائی پر خاصا اثر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں کمی نہ کرنے کی وجہ مستقبل کے خدشات ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں کے علاوہ ملک میں گندم، آٹے اور ان سے متعلقہ اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی وجوہات میں یہ دونوں عوامل نمایاں ہیں، جبکہ ان کے علاوہ قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے مقابلے میں حالیہ عرصے کے دوران مہنگائی کے منظرنامے میں بگاڑ آیا ہے اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان زیادہ نمایاں ہوا ہے۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ اس سے قبل توقع تھی کہ مالی سال 2027 کے اختتام، یعنی جون 2027 تک یا اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ستمبر سے پہلے مہنگائی کو 7 فیصد کی حد میں لایا جا سکے گا، تاہم گزشتہ 2 ماہ اور بالخصوص 6 ہفتوں کے دوران پیش آنے والی صورت حال کے باعث اس ہدف کے حصول کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔ اب مہنگائی کو مقررہ مدت میں اس سطح تک لانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال بھی ایک اہم عنصر ہے اور یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میں حالات کس سمت جائیں گے۔ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پاکستان کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا کہ اگر موجودہ مرحلے پر شرح سود میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کرنا پڑ سکتے تھے۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا اور قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے باوجود برآمد کنندگان کے لیے رعایتی مالی سہولتیں برقرار رہیں گی۔ برآمد کنندگان کو قلیل مدتی مالی ضروریات کے لیے بینکوں کے ذریعے ساڑھے 4 فیصد شرح سود پر سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ طویل مدتی اسکیم کے تحت پہلے 2 سال کے لیے 2 فیصد اور اس کے بعد اگلے 8 سال کے لیے 5 فیصد مقررہ شرح سود پر قرضے دستیاب ہوں گے۔ اس طرح برآمد کنندگان کو 10 سالہ مالی معاونت کی سہولت میسر رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ، اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11.5 سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ قلیل مدتی ورکنگ کیپیٹل کی سہولت کو بھی اسی شرح پر جاری رکھنے کے لیے بینکوں سے بات کی جائے گی۔ ان اقدامات کے باعث شرح سود میں حالیہ اضافے کا برآمد کنندگان پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کی ترجیح میں شامل ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بھی 5 فیصد مقررہ شرح سود برقرار رہے گی۔ اسی طرح دیگر ترجیحی شعبوں کے لیے پہلے سے اعلان کردہ مقررہ شرح سود کی اسکیمیں بھی جاری رہیں گی۔

جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کو ماضی میں مہنگائی کے علاوہ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے، جن میں درآمدات میں اضافہ، اشیا اور خدمات کی درآمدات اور سرمائے کا بیرون ملک اخراج شامل ہیں۔ تاہم گزشتہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ نمایاں طور پر کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 0.1 فیصد، یعنی لگ بھگ 300 ملین ڈالر رہ گیا، جبکہ مالی سال 2022 میں یہی خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا، جو مجموعی قومی پیداوار کے 4.4 فیصد کے برابر تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہتر رہی اور تقریباً توازن کے قریب پہنچ گئی، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی اخراجات بڑھنے کے خدشات کے باعث بیرونی کھاتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بہتر روابط کے باعث ملک کی مالی پوزیشن میں بہتری آ رہی ہے۔ پاکستان اب مہنگے اور مختصر مدت کے قرضوں کے بجائے مناسب شرح سود پر درمیانی اور طویل مدتی قرضوں کے حصول کو ترجیح دے رہا ہے۔ حالیہ بین الاقوامی ملاقاتوں میں قرض فراہم کرنے والے اداروں اور بینکوں کی اعلیٰ انتظامیہ سے بات چیت ہوئی، جہاں پاکستان کے لیے قرضوں کی دستیابی کا کوئی بڑا مسئلہ سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان مناسب شرائط پر قرض حاصل کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معیشت کی سمت مثبت ہے اور اس میں بینکنگ شعبے کا کردار کلیدی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کم از کم 2 قرض دہندگان کی پیشکشیں زیادہ لاگت اور ناموزوں شرائط کے باعث مسترد کی گئیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ قرضوں کی مدت طویل ہو اور ان پر شرح سود بھی مناسب ہو، کیونکہ ماضی میں ڈالر کی ضرورت کے باعث زیادہ شرح سود پر بھی قرض لینا پڑتا تھا، لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے سے ملک کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخی بلند ترین کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک اب ڈبل بی ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے درکار اقدامات پر توجہ دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اہم عوامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سال سے حکومت مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ بجٹ خسارہ بھی ماضی کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے اور عالمی قرض دہندگان سے زیادہ مناسب شرائط پر مالی وسائل حاصل کرنے کے امکانات بڑھیں گے۔

درآمدات کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے درآمدات کا تخمینہ پہلے 68 سے 70 ارب ڈالر کے درمیان تھا، تاہم اب اس کا اندازہ 71 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2022 کے دوران بھی پاکستان کی درآمدات 72 ارب ڈالر تھیں، لیکن اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے 17 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ صورت حال میں 71 ارب ڈالر کی درآمدات کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ تقریباً متوازن رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر نے پاکستان کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد تک بھی پہنچتا ہے تو اس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہوگی، تاہم موجودہ تخمینوں کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ کو تقریباً متوازن رکھنے کی توقع ہے۔

بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی تعداد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ترسیلات زر اور بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے کارکنوں کے اعدادوشمار کو حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق 2015 میں ایک سال کے دوران 9 لاکھ 47 ہزار کارکن بیرون ملک گئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 8 لاکھ 47 ہزار اور 2025 میں 7 لاکھ 47 ہزار رہی۔ ان اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 2 سال میں بیرون ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

پی ٹی آئی رہنماؤں کی سیاست اور سرگرمیاں دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ تھیں، رانا ثنااللہ

حکومت نے 27 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا

فلوریڈا میں قومی پرچم بلند، پاکستان انڈر 18 بیس بال کا چیمپیئن بن گیا، فائنل میں پیراگوئے کو شکست

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟