کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ایک اہم اجلاس کا دارالحکومت بیجنگ میں آغاز ہوا ہے، جس کا مقصد پارٹی میں نظم و ضبط مزید سخت کرنا اور حکام کو بیجنگ کے احکامات پر عمل درآمد کا پابند بنانا ہے۔
یہ اجلاس اگلے سال ہونے والی قیادت کی تبدیلی کی راہ بھی ہموار کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں صدر شی جن پنگ کی اقتدار پر گرفت مزید 5 سال کے لیے برقرار رہنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن کی برک لین اسٹریٹ پر چینی کمیونسٹ پارٹی کے حق میں نعرے کیوں؟
صدر شی جن پنگ نے پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے 4 روزہ اجلاس میں ایک مسودہ دستاویز پر بریفنگ دی، جس کا مرکزی موضوع ’پارٹی کے اندر خود احتسابی اور نظم و ضبط کے سخت نفاذ‘ ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، اس دستاویز میں پارٹی کو درپیش چیلنجز کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں حکمرانی کی صلاحیت کو بہتر بنانا، خود اطمینانی اور غفلت سے بچنا اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنا شامل ہیں، بدعنوانی کا خاتمہ صدر شی جن پنگ کی اہم ترین مہمات میں سے ایک ہے۔
Looking back, General Secretary Xi Jinping has put forward distinctive insights on economic development in his important addresses. The Fifth Plenary Session of the 20th Central Committee of the Communist Party of China is convened in Beijing. The main agenda includes the… pic.twitter.com/sh8TB0nGBU
— Xi Min (@xmn110310726765) October 26, 2026
شنہوا کے ایک تبصرے میں کہا گیا کہ مرکزی کمیٹی کے بڑے فیصلوں اور منصوبوں پر عمل درآمد محض زبانی دعووں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔
’ادارہ جاتی قواعد و ضوابط کو بہتر بنانا، خامیوں کو دور کرنا، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانا اور ان قواعد پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔‘
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے 105 ویں یومِ تاسیس کی تقریب
مرکزی کمیٹی کا یہ اجلاس پیر سے جمعرات تک جاری رہے گا۔ موجودہ مرکزی کمیٹی 2022 میں تشکیل دی گئی تھی اور اس کے بعد سے یہ 5واں اجلاس ہے، جسے چینی سیاسی اصطلاح میں ’ففتھ پلینم‘ کہا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اجلاس 2027 میں پارٹی قیادت میں متوقع تبدیلی سے پہلے آخری بڑا اجتماع ثابت ہو سکتا ہے، توقع ہے کہ شی جن پنگ چوتھی مرتبہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سنبھالنے میں کامیاب رہیں گے اور مزید 5 سال تک اس عہدے پر برقرار رہیں گے۔

کنگز کالج لندن کے لاؤ چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کیری براؤن نے کہا کہ اس اجلاس کے ذریعے شی جن پنگ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جائے گا، جو مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور اپنی قیادت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کے بقول، اجلاس میں غالب امکان ہے کہ تمام تر توجہ شی جن پنگ کی شخصیت اور قیادت پر مرکوز رہے گی، تاکہ ان کی جسمانی صحت اور عہدے پر برقرار رہنے کی صلاحیت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں اور شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔









