فلسطین میں غزہ پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد انتہائی منقسم اسرائیل میں آج تاریخ کے اہم ترین پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے، جہاں ووٹرز طویل عرصہ سے اقتدار میں موجود وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کو 3 سالہ علاقائی جنگوں، 7 اکتوبر کے حملے کے صدمے اور سیکیورٹی و احتساب کے کٹہرے کا سامنا ہے۔
اس دوران غزہ میں فوجی مہم، مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر اور پرتشدد واقعات کی وجہ سے اسرائیل عالمی سطح پر تیزی سے تنہا ہو رہا ہے۔
انتخابات میں تقریباً 7.3 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں سینکڑوں ہزاروں نوجوان پہلی بار اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا نیتن یاہو کے دوبارہ انتخاب میں حمایت کا اعلان، ایران کے خلاف کارروائی مکمل کرنے پر زور
سرویز کے مطابق ان کا رجحان زیادہ تر دائیں بازو کی طرف ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے بھی دسیوں ہزار اسرائیلی ووٹ ڈالنے کے لیے واپس آئے ہیں۔
یروشلم کے پولنگ اسٹیشن پر موجود 65 سالہ الیگزینڈرا نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں تبدیلی اور ایک اچھی جمہوری و معتدل حکومت چاہتی ہیں۔
دوسری طرف، 78 سالہ ووٹر نوام کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہیں کیونکہ ملک کی آدھی آبادی نے ان بنیادی اقدار کو مسترد کر دیا ہے جن پر اسرائیل کی بنیاد رکھی گئی تھی اور موجودہ حکومت طاقت کی تقسیم و شہریوں کی مساوات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
نیتن یاہو کا سیاسی تجربہ اور حریف گادی آئزن کوٹ
آخری رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے 77 سالہ بنجمن نیتن یاہو اپنے مرکزی حریف اور سابق فوجی سربراہ 66 سالہ گادی آئزن کوٹ کے ساتھ کانٹے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آئزن کوٹ کی نرم مزاجی ان کے مدِ مقابل کی جارحانہ سیاست کے برعکس ہے۔
نیتن یاہو نے اپنی 19 سال سے زیادہ اقتدار کی تاریخ کے تناظر میں انتخابی مہم کے دوران اپنی سیکیورٹی صلاحیتوں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اور اس دعوے پر زور دیا کہ صرف وہی اسرائیلیوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اس دوران انہوں نے انسانی جرائم پر مبنی جارحیت کی قیادت کی جن میں غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانا، جنوبی لبنان پر قبضہ اور امریکا کی مدد سے ایران پر حملے شامل ہیں۔
85 سالہ ریٹائرڈ خاتون زیپورہ بینیٹ نے نیتن یاہو کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل حالات میں ملک کی قیادت کرنے کے تجربے کے حامل ہیں اور وہ ایسے شخص ہیں جو کارروائی کرنے سے نہیں ڈرتے۔
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنے والے گادی آئزن کوٹ نے سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جسے نیتن یاہو کی حکومت نے اب تک روکے رکھا ہے۔
آئزن کوٹ نے فلسطینی ریاست کی مخالفت اور بستیوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن پرتشدد آباد کاروں کے خلاف سختی برتنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
انتہا پسند اتحادی اور فوجداری مسائل
نیتن یاہو نے دسمبر 2022 میں اقتدار میں واپسی پر انتہائی دائیں بازو کے قوم پرستوں کو اپنے اتحاد میں شامل کیا تھا، جن کا اثر و رسوخ اب بہت بڑھ چکا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی منسٹر اتامر بن گویر نے مغربی کنارے کی بستی کریات آربا میں اپنا ووٹ ڈالا جہاں ان کے حامیوں نے بینرز اور اسٹیگر لگا رکھے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں نے نیتن یاہو کو اس بات پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ انتہائی آرتھوڈوکس جماعتوں کے دباؤ میں آ کر دینی طلبہ کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دلانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ اس وقت فوج کو عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اس کے علاوہ، نیتن یاہو پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے ملک کی تاریخ کے بدترین دن یعنی 7 اکتوبر کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
عرب لسٹیں اور حکومت سازی کا مستقبل
انتخابات میں عرب اقلیت، جو کہ اسرائیل کی کل آبادی کا تقریباً 21 فیصد بنتی ہے، نے کسی بھی بڑے حریف سے باضابطہ اتحاد نہیں کیا ہے لیکن وہ نتائج میں اہم ’کنگ میکر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔
شمالی قصبے ام الفحم سے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے والے عرب اکثریت کی فہرست کے سربراہ یوسف جبارین نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی کمیونٹی کا زیادہ ٹرن آؤٹ نیتنیاہو کی حکومت کو شکست دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:’غیر ملکی سیاست دان فرانس کے حالات پر سیاست کر رہے ہیں‘ ٹرمپ، نیتن یاہو سمیت دیگر کو میکرون کا کرارا جواب
زیادہ تر پولنگ اسٹیشنز مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے بند ہو جائیں گے۔ حتمی نتائج آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں، اور 120 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنا کسی ایک جماعت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
کوئی بھی اتحاد بنانے میں ہفتوں یا مہینے لگ سکتے ہیں، اور بات چیت ناکام ہونے پر نئے انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔











