’جس اسرائیل میں ہم پلے بڑھے وہ ختم ہو رہا ہے‘: ہزاروں بیرون ملک مقیم اسرائیلی نیتن یاہو کے خلاف ووٹ ڈالنے وطن پہنچ گئے

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے اہم عام انتخابات سے قبل بیرون ملک مقیم دسیوں ہزار اسرائیلی ووٹ ڈالنے کے لیے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ یہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں جنہیں وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی قیادت کے لیے ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کا ایران میں حکومت گرانے کا اعلان، کیا اسرائیل یہ ہدف حاصل کرسکتا ہے؟

امریکی غیر منافع بخش تنظیم ایڈ کولیشن کے مطابق، “فلائی اینڈ ووٹ” مہم کے تحت 67 ہزار تک تارکین وطن ووٹ ڈالنے کے لیے اسرائیل واپس آ سکتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان میں سے تقریباً نصف امریکا سے جبکہ باقی یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے آ رہے ہیں۔

اسرائیلی قانون کے مطابق شہریوں کو عام طور پر ملک میں آ کر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنا ہوتا ہے تاہم سفارت کاروں اور چند سرکاری نمائندوں کے لیے اس میں استثنیٰ ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل میں 73 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں اور پولز میں سخت مقابلے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جہاں ماضی میں بھی انتخابات انتہائی کم مارجن سے جیتے گئے ہیں۔

بیرون ملک مقیم اسرائیلی کیوں واپس آ رہے ہیں؟

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم 61 سالہ یاہل نترا نے کہا کہ وہ دو دہائیوں تک کینیڈا میں رہنے کے باوجود کبھی ووٹ ڈالنے واپس نہیں آئیں لیکن اب انتہائی دائیں بازو کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔

مزید پڑھیے: امریکا کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے گریز، جے ڈی وینس کا اہم بیان سامنے آگیا

انہوں نے ٹورنٹو سے تل ابیب تک تقریباً 6 ہزار میل کا سفر ہزاروں ڈالر خرچ کر کے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اسرائیل میں میں پلی بڑھی وہ ختم ہو رہا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی سینیئر تجزیہ کار میراو زونشزین کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے بیرون ملک جانے والے بہت سے اسرائیلی ملک کے اندر رہنے والوں کے مقابلے میں تنہائی اور دشمنی کو زیادہ شدت سے محسوس کر رہے ہیں اور اسی لیے وہ نیتن یاہو کو ووٹ سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔

53 سالہ ہدر سسکنڈ جو اپنے چار رشتہ داروں کے ساتھ امریکا سے واپس آ رہے ہیں نے کہا کہ وہ اسرائیل کی جمہوریت کی تصدیق کے لیے واپس جا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نئی حکومت مغربی کنارے اور غزہ میں اپنی پالیسی تبدیل کرے۔

نیتن یاہو کے حامی بھی متحرک

امریکی اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار ڈاہلیا شینڈلین کا کہنا ہے کہ اس سال بیرون ملک سے ووٹروں کو لانے کی کوششیں ماضی کے مقابلے میں نمایاں ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ واپس آنے والے کس کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ “نیتن یاہو کے حامی تارکین وطن بھی ووٹ ڈالنے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں بولے گئے جھوٹ نیتن یاہو کے جنگی جرائم نہیں چھپا سکتے، نیویارک میئر ظہران ممدانی

دوسری جانب کئی ووٹرز ایسے بھی ہیں جو پہلے نیتن یاہو کے حامی تھے لیکن اب ان کے خیالات بدل گئے ہیں۔ نترا نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 1990 کی دہائی میں نیتن یاہو کو ووٹ دیا تھا لیکن اب 7 اکتوبر کے حملوں کی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے اور انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی حمایت نے انہیں دور کر دیا ہے۔

ان کی بہن 57 سالہ تمر ایچیلوو نے کہا کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے خوفناک اقدامات نے انہیں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا۔

اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ برسوں میں ریکارڈ تعداد میں اسرائیلی ملک چھوڑ کر گئے ہیں یہ رجحان سنہ 2022 میں شروع ہوا اور 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد عروج پر پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیے: اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ، درجنوں وفود واک آؤٹ کرگئے

نیتن یاہو کے مرکزی حریف وسطی دھڑے کے سیاستدان اور سابق فوجی چیف آف اسٹاف گاڈی آئزن کوٹ ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی کمیشن بنانے اور بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک کے اسٹارلنک کو  ٹکر، چین نے انٹرنیٹ سیٹلائٹس کا 28 واں بیچ خلا میں روانہ کردیا

پاکستان ریلوے نے اپنے افسران کے فضائی سفر پر پابندی عائد کردی

پاکستان انگلینڈ ون ڈے میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کا رنگ، قومی ٹیم گلابی کٹس میں میدان میں اتری

سی این این کا ٹی ٹی پی کے لیے ’ملیٹنٹس‘ کا لفظ استعمال کرنا تشویشناک ہے، دہشتگردوں کو دہشتگرد ہی لکھا جائے، مبصرین

فرانس میں احتجاج کے خدشات، پیرس کے لوور سمیت متعدد عجائب گھر بند، سیاح مایوس

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟