پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، جس کا بارہا اظہار کیا جا چکا ہے۔ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں اور سندھ کی قسمت کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام ہی کر سکتے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔
انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اور عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مہنگائی میں کمی لائی جائے، جبکہ سندھ حکومت بھی عوام پر پڑنے والا معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
’اسپینسر آئی اسپتال میں آنکھوں کے امراض کا مفت علاج ہوگا‘
بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے اسپینسر آئی اسپتال کے دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو عوامی خدمت کے لیے کام کرتے دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق کے ایم سی جیسی مقامی حکومتیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپینسر آئی اسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جہاں شہریوں کو آنکھوں کے امراض کے علاج کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مہنگے علاج کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور انہیں علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے معاشی بوجھ میں کمی لانے کے لیے کوشاں ہے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔
’کاش پورے لیاری کو شمسی توانائی پر منتقل کر سکتے‘
بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بجلی کے بل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ عام شہریوں کے لیے ان کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ کاش پورے لیاری کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا سکتا تاکہ وہاں کے عوام کو بجلی کے بھاری بلوں سے ریلیف مل سکے۔
بلاول بھٹو کے مطابق سندھ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ لیاری کے رہائشیوں کو شمسی توانائی کی سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے درخواست کرے گی کہ لیاری کے ان علاقوں کے عوام کو بھی ریلیف فراہم کیا جائے جو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متاثر ہیں۔











