پاکستان کی نوجوان خاتون ڈرفٹر لائبہ خان لودھی نے سوشل میڈیا پر تنقید اور صنفی تعصب کا سامنا کرنے کے باوجود موٹر اسپورٹس کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ گاڑیوں کے ساتھ بچپن سے وابستگی رکھنے والی لائبہ لودھی نے ایک وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اسے پیشہ ورانہ ڈرفٹر بننے کا محرک بنایا اور اب وہ پاکستان کی موٹر اسپورٹس برادری میں نمایاں شناخت حاصل کرچکی ہیں۔
لائبہ خان لودھی نے 2024 میں اپنی مرسڈیز گاڑی پر ڈونٹس کرتے ہوئے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔ یہ مہارت انہوں نے دبئی کی پرو ڈرفٹ اکیڈمی سے سیکھی تھی۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مقامی اسٹریٹ ریسنگ سے وابستہ افراد کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوئی، تاہم بعض صارفین نے ان کی ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر میم بنادی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: ندا صالح اورنج لائن ٹرین کی پہلی خاتون ڈرائیور بن گئیں
اس کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید، نامناسب تبصروں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض صارفین نے خواتین کو ڈرائیونگ سے دور رہنے اور باورچی خانے تک محدود رہنے جیسے توہین آمیز جملے بھی کہے۔ لائبہ لودھی کے مطابق ان تبصروں سے انہیں مایوسی ضرور ہوئی، لیکن اسی ردعمل نے انہیں ڈرفٹنگ کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا حوصلہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان تبصروں سے یہ تاثر ملتا تھا کہ موٹر اسپورٹس صرف مردوں کا شعبہ ہے، تاہم وہ اس سوچ کو چیلنج کرنا چاہتی تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ ہر شخص کی سوچ تبدیل نہیں کرسکتیں، لیکن اپنی کارکردگی سے ثابت کرسکتی ہیں کہ خواتین بھی ریسنگ ٹریک پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔

انہوں نے جب اپنے والدین سے پیشہ ورانہ طور پر ڈرفٹنگ اختیار کرنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے نہ صرف ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ ان کے مطابق مشکل وقت میں والدین کی حمایت نے انہیں اعتماد دیا اور تنقید کرنے والوں کو اپنی صلاحیتوں سے جواب دینے کا جذبہ پیدا کیا۔
بچپن سے گاڑیوں کا شوق
لائبہ خان لودھی کا کہنا ہے کہ گاڑیاں ان کی زندگی کا ہمیشہ سے اہم حصہ رہی ہیں۔ ان کے والد اسلام آباد میں گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے اور مختلف گاڑیاں گھر لاتے تھے۔ بعض اوقات وہ چاہتے تھے کہ لائبہ ان گاڑیوں کو سب سے پہلے چلائیں۔
کنورٹیبل سے لے کر قدیم ماڈل کی گاڑیوں تک، انہیں بچپن ہی سے مختلف گاڑیاں چلانے اور ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، جس کے نتیجے میں گاڑیوں سے ان کی جذباتی وابستگی بڑھتی گئی۔
لائبہ کے مطابق وہ گاڑیوں سے بہت جلد مانوس ہوجاتی ہیں اور آج بھی انہیں وہ تمام گاڑیاں یاد ہیں جن میں وہ کبھی بیٹھی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض گاڑیوں کی فروخت پر انہیں اتنا دکھ ہوا کہ وہ رو بھی پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی خاتون ریسنگ ڈرائیور عرشیہ اختر نے عالمی موٹر اسپورٹس میں تاریخ رقم کردی
تاہم بچپن میں انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ موٹر اسپورٹس کو اپنا پیشہ بنائیں گی۔ وقت کے ساتھ ان کے مستقبل کے منصوبے بھی تبدیل ہوتے رہے۔ ایک مرحلے پر وہ فوج میں شمولیت کی خواہش مند تھیں، جبکہ بعد ازاں پائلٹ بننے پر بھی غور کیا، لیکن ڈرفٹنگ کو پیشے کے طور پر اپنانے کا خیال اس وقت تک ذہن میں نہیں آیا تھا جب تک ان کی ویڈیو پر ہونے والی تنقید نے انہیں اس جانب متوجہ نہیں کیا۔
ڈرفٹنگ کا مشکل اور مہنگا شعبہ
ڈرفٹنگ موٹر اسپورٹس کی ایک ایسی قسم ہے جس میں ڈرائیور گاڑی کو موڑ کاٹتے ہوئے سائیڈ کی جانب پھسلنے کی حالت میں قابو میں رکھتے ہیں۔ اس دوران گاڑی کے پچھلے پہیوں کا گرفت کھونا اور گاڑی کا ایک مخصوص زاویے پر حرکت کرنا اس کھیل کا بنیادی حصہ ہے۔ مقابلوں میں ڈرائیوروں کی مہارت، رفتار، گاڑی پر قابو اور مختلف انداز میں موڑ کاٹنے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے۔
لائبہ کے مطابق ڈرفٹنگ ایک مہنگا کھیل ہے، جس کے لیے اچھی حالت میں گاڑی، ریسنگ ٹریک تک رسائی اور باقاعدہ تربیت پر اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان اخراجات کو پورا کرنے اور اپنی مالی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے وہ گاڑیوں سے متعلق مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں، مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرتی ہیں اور ‘اجوہ موڈسٹ ویئر’ کے نام سے اپنا لباس کا کاروبار بھی چلاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈرفٹنگ کے لیے بعض گاڑیاں اپنے پیسوں سے بھی خریدی ہیں، جس پر انہیں فخر ہے، کیونکہ ان کے نزدیک مالی طور پر خودمختار ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے۔
2026 تک لائبہ پاکستان کی ڈرفٹنگ اور ریسنگ برادری میں ایک معروف نام بن چکی تھیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ ان کی ڈرفٹنگ ویڈیوز کو لاکھوں مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستان کی نمائندگی
لائبہ کی مہارت کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ رواں سال جنوری میں انہوں نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی سعودی ٹویوٹا ڈرفٹ چیمپئن شپ میں شرکت کی، جہاں وہ واحد خاتون ڈرفٹر ہونے کے ساتھ پاکستان کی بھی واحد نمائندہ تھیں۔
اس مقابلے میں شرکت ان کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع ثابت ہوئی۔
چولستان ریلی میں پہلا حادثہ
ڈرفٹنگ کے بعد لائبہ نے اپنی صلاحیتوں کو مزید آزمانے اور نئے ٹریکس پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے تحت انہوں نے چولستان ڈیزرٹ ریلی کے خواتین کی پریپیئرڈ کیٹیگری مقابلے میں حصہ لیا۔ یہ ان کے لیے ایک مختلف اور نسبتاً نیا تجربہ تھا، جہاں انہیں دورانِ ڈرائیونگ اپنے پہلے حادثے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ریس کے آغاز میں ہی ان کی گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں گاڑی کا سائیڈ مرر اور اگلی ونڈ اسکرین متاثر ہوئی، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مقابلہ جاری رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی سوچا نہیں تھا کہ اتنا بڑا ٹرک چلاؤں گی، خاتون ٹرک ڈرائیور
بعد ازاں انہیں راستے میں موجود ایک گڑھا بروقت دکھائی نہ دیا، جس سے گاڑی کو شدید جھٹکا لگا اور ان کے بازو پر چوٹ آئی۔ صورت حال کے پیش نظر طبی عملے کو بھی ان کا معائنہ کرنا پڑا۔
لائبہ کے مطابق پہلی ہی ریس میں ایسے تجربے سے گزرنا مشکل تھا، لیکن وہ اسے اپنے لیے ایک اہم سبق سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر اسپورٹس میں خطرات موجود رہتے ہیں اور اس حادثے نے انہیں مناسب تیاری اور حفاظتی انتظامات کی اہمیت کا احساس دلایا۔ وہ اس بات پر خوش تھیں کہ تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے مقابلہ مکمل کیا اور پوڈیم پر بھی جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔
لائبہ خان لودھی کے مطابق سوشل میڈیا پر تنقید اور مذاق سے شروع ہونے والا ان کا سفر اب ایک ایسی شناخت میں تبدیل ہوچکا ہے جس پر لوگ فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ انہیں اب ایسے پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں جن میں والدین بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں بھی ڈرفٹنگ سیکھنے اور اس کھیل میں حصہ لینے کی خواہش رکھتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی جانب سے اس کھیل میں دلچسپی دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ مسلسل میدان میں موجود رہنے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے انہوں نے دیگر خواتین کے لیے بھی موٹر اسپورٹس میں آنے کی راہ کسی حد تک آسان بنائی ہے۔











