حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور کا ایمرجنسی بلاک 9 سال بعد بھی نامکمل، صوبے کے اسپتالوں میں مریض رلنے لگے

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں نئے ایمرجنسی بلاک کی تعمیر کا منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود تاخیر کا شکار رہا ہے، جس کے باعث منصوبے کی بروقت تکمیل اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایمرجنسی بلاک کی تعمیر کا آغاز 2017 میں ہوا تھا، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث منصوبے پر تعمیراتی کام طویل عرصے تک معطل رہا۔ مئی 2025 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق منصوبے کی منظور شدہ لاگت ایک ارب 20 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی، جبکہ باقی ماندہ تعمیراتی کام کی تکمیل کے لیے مزید 60 کروڑ روپے درکار تھے۔

مئی 2026 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں اسپتال انتظامیہ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایمرجنسی بلاک کی تعمیر کا بیشتر کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے طبی آلات، فنڈز اور عملے کی فراہمی اب بھی ضروری ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس خیبرپختونخوا کے 3 بڑے سرکاری اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں پشاور کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں سے بھی مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایمرجنسی کی اضافی سہولیات کی بروقت فراہمی مریضوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

منصوبے میں تاخیر اور اسے مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے درکار وسائل کے پیش نظر یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نئے ایمرجنسی بلاک کو مریضوں کے لیے کب کھولا جائے گا اور اس کی تکمیل کے بعد اسپتال کی ایمرجنسی سروسز میں کس حد تک بہتری آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp