اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے کہا ہے کہ غزہ میں اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے خلاف تشدد، ہلاکتوں اور جبری بے دخلی کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، اور اسرائیل سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے پیر کو اپنی رپورٹ جاری کی، جس میں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے سے لے کر ستمبر 2026 تک فلسطینی شہریوں، خصوصاً بچوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے غزہ میں فلسطینیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نسل کشی کی نیت سے ایسے اقدامات جاری رکھے۔ کمیشن کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں شہری آبادی کے خلاف بھاری گولہ بارود، ڈرونز، کواڈ کاپٹرز، توپ خانے اور اسنائپر فائر کا استعمال کیا جاتا رہا۔
تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے عارضی حد بندی کے طور پر متعارف کرائی گئی ‘یلو لائن’ غزہ کے اندر مزید آگے بڑھتی جارہی ہے اور عملاً ایک سرحد کی شکل اختیار کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورت حال غزہ کے علاقے پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات عائد کیے ہوں۔ ستمبر 2025 میں جاری ہونے والی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت اعلیٰ حکام نے ان اقدامات پر اکسانے کا کردار ادا کیا۔ اسرائیل نے اس وقت ان الزامات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔
تازہ رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے جنیوا میں اسرائیلی مشن نے اسے اسرائیل کو بدنام کرنے کی گمراہ کن مہم کا حصہ قرار دیا۔ اسرائیلی مشن کے مطابق اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن اسرائیل کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے اور اپنے دفاع کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی مشن نے عالمی برادری سے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کی نسل کشی میں کونسی کمپنیاں ملوث ہیں؟ اقوام متحدہ نے فہرست جاری کردی
رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 تک مغربی کنارے میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 254 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ 2008 سے 6 اکتوبر 2023 تک ایسے حملوں میں 6 فلسطینیوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
تحقیقاتی کمیشن نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور آبادکاروں کا مسلسل تشدد 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملوں کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں اسرائیلی حکام اور فورسز پر قتل عام، تشدد، ریپ اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق امتیازی بنیادوں پر فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں قومیت، نسل اور نسلی شناخت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
کمیشن کے سربراہ سرینواسن مورالی دھر نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کرنا اور ان کے گھروں کو تباہ کرنا فلسطینیوں کو ختم کرنے اور ان کی جبری بے دخلی کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں 1967 کے بعد فلسطینیوں کی سب سے بڑی بے دخلی ہوئی، جبکہ اگست 2026 تک 34 ہزار 176 فلسطینی بے گھر ہوچکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ چارلس کے سابق مشیر نے برطانیہ کو فلسطینیوں کی نسل کشی میں شریک قرار دیدیا
تحقیقاتی کمیشن نے فلسطینی اتھارٹی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس نے اختلافی آوازیں اٹھانے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو قتل یا زخمی کیے جانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 74 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ حملے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنگجوؤں کے جنوبی اسرائیل میں حملے کے بعد شروع ہوئے تھے، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔











