ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے کہا ہے کہ رنگ روڈ کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے 4 دن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے انڈر پاسز کی تعمیر اور رنگ روڈ کی توسیع سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اب تک 450 سے زیادہ تعمیرات مسمار کی جا چکی ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں اندرون شہر، چارسدہ روڈ، ناصرباغ روڈ، یونیورسٹی روڈ اور دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن چھٹے روز میں داخل،400 سے زائد غیر قانونی تعمیرات مسمار
ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے کہا کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے باقاعدہ قوانین اور ضوابط موجود ہیں، تاہم مؤثر کارروائی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ پولیس، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) بھی حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے 1989 میں رنگ روڈ کے لیے زمین حاصل کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس زمین پر غیر قانونی قبضے اور تعمیرات قائم ہو گئیں۔ اب اسی زمین کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جا رہا ہے تاکہ جاری آپریشن کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔
آفاق وزیر کے مطابق حیات آباد ٹول پلازہ سے موٹروے تک سفر میں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے، جسے کم کرکے تقریباً 20 منٹ تک لانے کے لیے رنگ روڈ کی توسیع اور مختلف مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمیل چوک، پشتخرہ چوک اور پیر زکوڑی کے مقامات پر ٹریفک کے رش کے باعث شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، اس لیے ان مقامات پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رنگ روڈ کے شمالی حصے کے ساتھ فلائی اوور کی تعمیر سمیت مختلف ترقیاتی منصوبے زیر غور ہیں، جبکہ کوشش کی جا رہی ہے کہ آئندہ 3 سے 4 ماہ کے دوران پشاور کے گرد سڑکوں کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ کے بعد شہر کے اندر ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے دیگر شاہراہوں پر بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ ناصرباغ روڈ کو ماڈل شاہراہ بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور نے واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی، تاہم کسی ایک فرد یا ادارے کی وجہ سے ہزاروں گاڑیوں اور شہریوں کی آمدورفت متاثر ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شہری یا کاروباری شخص کو کارروائی پر اعتراض ہے تو وہ متعلقہ فورم یا عدالت سے رجوع کر سکتا ہے یا کمیشن میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کوئی شخص کسی تعمیر کے لیے این او سی موجود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے متعلقہ دستاویزات مجاز فورم پر پیش کرنی چاہییں، تاہم اب تک ان کے سامنے کوئی این او سی پیش نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری زمین پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ قوانین موجود ہیں۔ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اپنے قانون کے تحت جبکہ تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) متعلقہ ایکٹ کے تحت کارروائی کرتی ہے۔ اسی طرح واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (ڈبلیو ایس ایس پی) کی ذمہ داریوں میں صفائی، نکاسی آب اور پانی کی فراہمی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور تعاون سے کام کر رہے ہیں اور کسی بھی علاقے سے شکایت موصول ہونے پر مشترکہ طور پر اس کا ازالہ کیا جاتا ہے۔
آفاق وزیر نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز 4 ٹیموں کے ذریعے کیا گیا تھا، تاہم اب ان کی تعداد بڑھا کر ضلعی انتظامیہ کی 9 ٹیمیں کر دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں رنگ روڈ کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا، جس کے بعد یہی ٹیمیں دیگر شاہراہوں پر بھی کارروائیاں کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ کارخانو مارکیٹ کے علاقے میں بھی ایک ٹیم نے آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ حیات آباد میں بھی کسی قسم کی خلاف ورزی کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مسمار کی گئی تعمیرات کا ملبہ اٹھانے کا عمل بھی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں تبدیلی آچُکی: کیا پشاور رنگ روڈ کے اہم ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے؟
انہوں نے سیاسی بنیادوں پر آپریشن کیے جانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ کارروائی غلط ہدایات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے تو وہ متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور پشاور کو ایک بار پھر پھولوں کا شہر بنایا جائے۔










