سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل کلوئی میں رہائشی آبادیوں کے قریب کوئلہ بنانے کے کُپے اور اینٹوں کے بھٹے قائم ہیں، جہاں درخت کاٹ کر کوئلہ بنایا جاتا ہے، جبکہ بعض بھٹوں میں پلاسٹک اور فیکٹریوں کا آلودہ فضلہ بھی جلایا جاتا ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق ان سرگرمیوں سے اٹھنے والا زہریلا دھواں علاقے کے لوگوں کی صحت متاثر کر رہا ہے اور متعدد افراد دمہ، ٹی بی اور کھانسی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 2 سے 3 سال سے ان بھٹوں اور کوئلہ بنانے کے مراکز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، تاہم اب تک مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام ان مراکز کو کم از کم رہائشی آبادیوں سے دور منتقل کریں اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔










