سائبر سیکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی ڈسکور ٹیک مبینہ طور پر اسپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے صارفین کو بڑے پیمانے پر ہدف بنا رہی تھی، جس کا ممکنہ مقصد ان کے جغرافیائی مقامات کا پتا لگانا اور نگرانی کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اس معاملے سے واقف 6 افراد نے بتایا کہ ٹوکیو میں قائم سائبر سیکیورٹی کمپنی ٹرینڈ مائیکرو کے ذیلی ادارے ٹرینڈ اے آئی کے محققین نے ڈیجیٹل اشتہارات کے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے ڈسکور ٹیک کی مشتبہ سرگرمیوں کی نشاندہی کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا اسٹارشپ پہلی بار مدار میں پہنچ گیا، 26 نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی روانہ
محققین کے مطابق، یہ کمپنی اسٹارلنک صارفین کو دکھائے جانے والے اشتہارات کے حصول کے لیے دنیا کے بڑے اداروں میں شامل تھی اور 100 سے زائد ممالک میں اسٹارلنک ٹریفک پر اشتہارات کی بولی لگانے والوں میں سرفہرست رہی۔
ان ممالک میں بعض ایسے علاقے بھی شامل تھے جہاں اسٹارلنک کی سروس ممنوع یا محدود ہے۔
Exclusive: Researchers at TrendAI concluded the Israeli company Discover-Tech was one of the biggest sources of digital ads shown to users of SpaceX's Starlink service and that the ads were likely being used to geolocate or otherwise surveil them https://t.co/pSdMWCGGLV
— Reuters (@Reuters) October 27, 2026
ٹرینڈ اے آئی نے 15 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں مشتبہ ادارے کا نام ظاہر کرنے کے بجائے اسے ’شیڈو ارتھ 79‘ قرار دیا تھا۔
تاہم، ذرائع کے مطابق، یہ نام ڈسکور ٹیک کے لیے استعمال کیا گیا تھا، کمپنی کا نام رپورٹ میں شامل کرنے پر غور بھی کیا گیا، لیکن قانونی خدشات کے باعث اس کی براہِ راست نشاندہی نہیں کی گئی۔
اسٹارلنک کے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے صارفین مقامی ٹیلی کام نظام سے ہٹ کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک نے مکیش امبانی کو ’وزیراعظم‘ کہہ کر اسٹار لنک کی اجازت طلب کرلی
یہی خصوصیت اسے ان علاقوں میں اہم بناتی ہے جہاں انٹرنیٹ پر پابندیاں ہوں یا مسلح تنازعات جاری ہوں۔
یوکرین کی فوج بھی اگلے محاذوں پر رابطوں اور ڈرون حملوں کی رہنمائی کے لیے اس سروس پر انحصار کرتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، اسی روز کینیڈا کے سائبر سیکیورٹی ادارے سٹیزن لیب اور نیویارک کی اشتہاری ٹیکنالوجی کمپنی کنفیئنٹ نے بھی ڈسکور ٹیک کا نام ظاہر کرتے ہوئے اس کے اشتہاری نظام کے ممکنہ غلط استعمال کی نشاندہی کی۔

ان اداروں کے مطابق، اشتہارات کی بولی کے دوران انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا مشتہرین تک پہنچ سکتا ہے، جسے دیگر معلومات کے ساتھ ملا کر صارفین کی شناخت اور آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔
تحقیقات کے بعد گوگل، کامکاسٹ اور دیگر کمپنیوں نے ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاری پلیٹ فارمز سے ہٹانے کی تصدیق کی۔
مزید پڑھیں: کیا حکومت نے اسٹار لنک کو پاکستان میں کام کرنے کے لیے لائسنس دینے کا عمل روک دیا ہے؟
ایک امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اور ایک بین الاقوامی تنظیم نے بھی اپنے ملازمین کو ممکنہ طور پر ہدف بنائے جانے کے معاملے پر اندرونی تحقیقات شروع کیں۔
ٹرینڈ اے آئی کی رپورٹ کے مطابق، مشتبہ ادارہ شام، لیبیا، یمن اور جنوبی سوڈان میں اشتہارات کا سب سے بڑا خریدار، جبکہ افغانستان میں دوسرا بڑا خریدار تھا۔
ہنگری، اسرائیل، مصر، آذربائیجان اور وینزویلا میں بھی اس کی سرگرمیاں غیر معمولی قرار دی گئیں۔











