ورزش کے لیے الگ وقت نکالے بغیر بھی روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی چھوٹی جسمانی سرگرمیاں اپنا کر صحت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ دیر بیٹھے رہنے کے بجائے جسم کو حرکت دیتے رہنا دل کی بیماریوں اور قبل از وقت موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق بیٹھے ہوئے ٹانگیں ہلانا، سیڑھیاں چڑھنا، گھر کی صفائی، باغبانی، تیز قدموں سے چلنا اور بچوں کے ساتھ کھیلنا بھی جسمانی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ ان سے جسم کی توانائی خرچ ہوتی ہے اور عضلات متحرک رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آنکھوں میں چھپی دل کی بیماری؟ ریٹینا کی تبدیلی تشخیص سے 4 سال پہلے خطرہ بتا سکتی ہے
2024 کی ایک تحقیق میں برطانیہ کے 22 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 4 منٹ کی مختصر جسمانی سرگرمیاں بھی زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے وابستہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں، خریداری کے لیے ممکن ہو تو گاڑی کچھ فاصلے پر کھڑی کریں اور فون پر بات کرتے ہوئے بیٹھنے کے بجائے چہل قدمی کریں۔ دانت صاف کرتے وقت ایڑیوں کو اوپر نیچے کرنا اور کام کے دوران وقفے وقفے سے کھڑے ہونا بھی مفید عادتیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنانے سے ورزش کے لیے الگ وقت نکالنے کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے۔ تاہم یہ سرگرمیاں باقاعدہ ورزش کا مکمل متبادل نہیں، بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کو بہتر بنانے کا ایک آسان طریقہ ہیں۔











