چین کے جانب سے سرحد پار جاری آبی منصوبے کے جواب میں بھارت کی جانب سے ایک بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کے اعلان پر شمالی مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں شدید عوامی احتجاج پھوٹ پڑا ہے۔ گزشتہ ہفتے نوجوان مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد حکام نے علاقے میں مزید سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جبکہ مقامی قبائلیوں نے آبائی زمینوں کی غرقابی کے خدشے کے پیش نظر منصوبے کی منسوخی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین نے بھارتی ریاست اروناچل پردیش اور متنازعہ اکسائی چین کو نئے نقشہ میں شامل کرلیا، بھارت کا شدید احتجاج
تبت کی سرحد سے متصل اروناچل پردیش کی ‘سیانگ وادی’ میں گزشتہ ہفتے مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور کم از کم 21 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل داغے جبکہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور ایک پولیس اسٹیشن کے ساتھ ساتھ سرکاری ‘نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن’ کے دفتر کو آگ لگا دی۔
اروناچل پردیش کے پولیس چیف ایس ڈی سنگھ جموال نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ جن مقامات پر ضرورت ہے وہاں فورسز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ ہم امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے۔‘
11 ہزار میگاواٹ کا منصوبہ اور مقامی آبادی کے تحفظات
گزشتہ 2 برسوں کے دوران سیانگ وادی میں وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ یہ وادی 11,200 میگاواٹ کے مجوزہ ’سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ‘ کا مقام ہے، جسے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن کے تحت تیار کیا جائے گا۔
Massive Dam protest in Arunachal Pradesh, India. Fearing China’s upstream dam construction, India plans to build a massive Siang dam on the Brahmaputra River. The dam may displace 150,000 indigenous people. Modi regime used teargas, protest became violent. https://t.co/0WBt11EPiw
— Ashok Swain (@ashoswai) October 24, 2026
اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کو خدشہ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے ان کے ‘آدی قبائل’ کے آبائی گاؤں پانی میں ڈوب جائیں گے۔
سیانگ انڈیجینس فارمرز فورم کے نمائندے گیگونگ جیجونگ نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم اس ڈیم کی اس وقت تک مخالفت جاری رکھیں گے جب تک یہ منسوخ نہیں ہو جاتا۔ اگر یہ تعمیر ہوا تو ہمارے 27 آبائی گاؤں مکمل طور پر غرقاب ہو جائیں گے جبکہ مزید 40 سے 50 دیہات اس سے متاثر ہوں گے۔‘
جغرافیائی و سیاسی تناظر
سیانگ ندی تبت سے اروناچل پردیش میں داخل ہوتی ہے، جہاں اسے ‘یارلنگ زانگبو’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چین نے تبت میں دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا، جس نے نئی دہلی میں یہ خدشات پیدا کر دیے کہ اس کا دیرینہ اسٹریٹجک حریف دریا کے بہاؤ پر کنٹرول کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین کا اروناچل پردیش پر کنٹرول مضبوط، 30 دیہاتوں، دریاؤں اور جھیلوں کے نام تبدیل کر دیے
واضح رہے کہ چین اروناچل پردیش پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اسے ‘زانگنان’ یعنی جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت کا مؤقف ہے کہ یہ ریاست اس کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔
اروناچل پردیش کے بی جے پی سے وابستہ وزیر اعلیٰ چین کے اس آبی منصوبے کو ریاست کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔










