خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مبینہ دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں خودکش بمبار سمیت فتنہ الخوارج کے 2 کارندے ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک زخمی دہشتگرد فرار ہوگیا جس کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک میں کالے شیشوں والی ایک مشکوک موٹر کار کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر پولیس کی نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس کو دیکھتے ہی کار میں سوار مشتبہ دہشتگردوں نے فرار ہونے کی کوشش کی اور اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں مشکوک گاڑی میں سوار خودکش بمبار سمیت 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک زخمی دہشتگرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک
پولیس نے جائے وقوعہ سے دہشتگردوں کے زیر استعمال گاڑی کی تلاشی کے دوران اسلحہ، ایمونیشن، تحریک طالبان پاکستان کا جھنڈا، خواتین کے برقعے اور دیگر مشکوک اشیا برآمد کرلی ہیں۔ پولیس کے مطابق برآمد ہونے والے سامان کی نوعیت سے دہشتگردوں کے کسی بڑی تخریبی کارروائی کے لیے جانے کا شبہ ہے، تاہم ان کے ممکنہ عزائم کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی، جبکہ فرار ہونے والے زخمی دہشتگرد کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن اور نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں تحویل میں لے کر شناخت کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بروقت کارروائی پر لکی مروت پولیس کے جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کی پروا نہ کرنے والے پولیس اہلکار قوم کے اصل ہیروز ہیں، جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔
آئی جی پی نے عزم ظاہر کیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پولیس کی جدوجہد جاری رہے گی۔











