سوڈان کے مغربی علاقے دارفور کے شہر نیالا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور 40 دیگر زخمی ہوگئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق طبی ذرائع اور عینی شاہدین نے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان اور مصر کی سرحد پر سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدوروں کی ہلاکت کا دعویٰ
ایک مقامی رہائشی کے مطابق، حملہ پیر کی رات تقریباً 8 بجے شہر کے شمالی حصے میں واقع ایک بازار پر کیا گیا، نیالا کو سوڈان کی نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کا عملی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
نیالا اسپتال کے ایک طبی اہلکار نے منگل کو بتایا کہ گزشتہ رات ہونے والی بمباری میں 21 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ ایک دوسرے مقامی رہائشی کے مطابق، مذکورہ بازار میں مسلح افراد، بالخصوص آر ایس ایف کے جنگجو، اکثر آتے جاتے تھے۔
Dozens were killed and injured in intense airstrikes on Nyala, South Darfur, Monday evening. The Sudanese army has escalated air operations, targeting RSF positions, commanders' homes, and infrastructure in an unprecedented aerial campaign.https://t.co/IyawLrSbEQ#Sudan #Nyala… pic.twitter.com/R4h2kws7ZG
— Sudan Tribune (@SudanTribune_EN) October 27, 2026
سوڈانی فوج اپریل 2023 سے آر ایس ایف کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور نیالا سمیت ان علاقوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتی رہی ہے جہاں نیم فوجی تنظیم کا اثر و رسوخ ہے۔ آر ایس ایف نے نیالا میں اپنی انتظامیہ قائم کر رکھی ہے، جو خرطوم میں قائم فوج کی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے متوازی ہے۔
سوڈان میں ڈرون حملوں میں اضافہ
حالیہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران دونوں متحارب فریق ڈرون حملوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔
رواں ماہ آر ایس ایف نے خرطوم کے ہوائی اڈے کے علاوہ سرکاری کنٹرول والے مشرقی علاقوں میں ڈیموں اور بجلی گھروں کو بھی نشانہ بنایا۔
منگل کو ایک اور ڈرون حملے میں خرطوم کے علاقے المرخیات میں بجلی کی ترسیل کے ایک اہم اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث خرطوم اور ریاست الجزیرہ کے وسیع علاقوں میں لاکھوں افراد کی بجلی متاثر ہوئی۔

ایک قومی بجلی کمپنی کے اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ پیر کے روز بجلی گھروں پر کیے گئے مربوط ڈرون حملوں کے بعد ہوا، جن میں 6 بجلی گھر نشانہ بنے تھے۔
ان حملوں کے نتیجے میں الجزیرہ، وائٹ نائل، سنار اور القضارف کی ریاستوں میں لاکھوں افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔
اس ماہ کے آغاز میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں حکومتی ڈرون حملے کے نتیجے میں بھی 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خانہ جنگی سے انسانی بحران شدت اختیار کرگیا
سوڈان میں جنگ اپریل 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب دونوں مسلح افواج کے انضمام کے طریقۂ کار پر اختلافات دارالحکومت خرطوم میں مسلح تصادم میں تبدیل ہوگئے۔
جنگ کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، ملک کو دنیا کے شدید ترین بھوک اور نقل مکانی کے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: جنوبی سوڈان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی عالمی کوششوں کی حمایت کا اعادہ
پیر کے روز امریکا، یورپی یونین اور دیگر 30 ممالک نے سوڈان میں خوراک تک رسائی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے قحط سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
مشترکہ بیان میں خانہ جنگی میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کریں۔











