وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی میں دہشتگردوں کے حملے میں 2 طالبات کی شہادت اور اسکول کی بچیوں کے زخمی ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد بلوچ بچوں کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں، لیکن حکومت کسی صورت ان کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوشکی میں دہشتگردوں نے 2 طالبات کو شہید کیا، جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اسکول میں بچیوں کو زخمی کیا۔ بچوں کو نشانہ بنانا ایک آسان ہدف ہے، لیکن معصوم بچیوں پر دہشت گرد حملے کرکے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
میں بی ایل اے والوں کو کہتا ہوں کہ بچیوں کو تعلیم سے دور کرنا کون سی بلوچیت ہے؟ یہ بلوچستان کی بچیوں کو خودکش حملہ آور بناتے ہیں۔ جب یہ بچوں اور بچیوں کو تعلیم سے دور رکھیں گے تو اُن کے لیے اِنہیں کو ریاست کے خلاف استعمال کرنا آسان ہو گا، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
@PakSarfrazbugti— WE News (@WENewsPk) October 28, 2026
انہوں نے معصوم بچوں اور بچیوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد چاہتے ہیں کہ بلوچ بچے تعلیم حاصل نہ کرسکیں تاکہ وہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا پیچھا جاری رکھا جائے گا اور انہیں قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عوام مل کر دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے۔ دہشتگردی کے واقعات حکومت کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے اور نہ ہی دہشتگردوں کو شہری علاقوں یا پہاڑوں میں چھپنے دیا جائے گا۔
’بلوچستان میں تعلیمی ادارے کسی صورت بند نہیں ہوں گے‘
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کے واقعات کے باوجود صوبے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کسی صورت بند نہیں کی جائیں گی، بلکہ تعلیمی اداروں کو آباد رکھنے اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 3200 بند اسکول دوبارہ کھولے گئے ہیں اور حکومت تعلیمی اداروں کو فعال رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی بچیوں کو تعلیم، شعور اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنا مستقبل بہتر بنا سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور انہیں کسی صورت شہری آبادیوں یا پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر بات چیت کرنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں، تاہم دہشت گردی میں ملوث عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔











