کراچی میں خاتون کی ہنگامہ آرائی سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، پولیس کارروائی کیوں نہ کرسکی؟

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں ایک خاتون کی سڑک کے درمیان گاڑی روک کر شدید ہنگامہ آرائی کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ عینی شاہدین کے مطابق خاتون مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھی، جس نے سڑک بند کرکے ٹریفک کی روانی معطل کردی۔

خاتون بار بار سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں کے سامنے آتی رہی اور بعض گاڑیوں کے بونٹ پر بھی چڑھ گئی، جس کے باعث ڈرائیورز اپنی گاڑیاں روکنے پر مجبور ہوگئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں گلستان جوہر کی مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔

عینی شاہدین کے مطابق خاتون ایک نجی آن لائن کیب سروس کے ذریعے علاقے میں پہنچی تھی۔

جوہر چورنگی کے قریب پہنچنے پر خاتون گاڑی سے خود اتری یا ڈرائیور نے اسے وہاں اتارا، یہ واضح نہیں ہوسکا۔ تاہم گاڑی سے اترنے کے بعد خاتون نے سڑک پر آکر گزرنے والی گاڑیوں کو روکنا اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔

موقع پر موجود ٹریفک پولیس اہلکاروں اور راہگیروں نے مشترکہ کوششوں سے خاتون کو مرکزی شاہراہ سے ہٹا کر سڑک کے کنارے منتقل کیا تاکہ ٹریفک کی روانی بحال کی جاسکے۔

خاتون کو سڑک کے ایک جانب منتقل کرنے کے بعد موقع پر موجود دیگر شہریوں کی مدد سے وہاں سے روانہ کردیا گیا، جس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے چلی گئی۔

ٹریفک اہلکاروں کی بے بسی

موقع پر موجود ٹریفک پولیس اہلکار خواتین پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی کے باعث خاتون کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر نظر آئے، جبکہ پولیس اہلکار اور راہگیر اسے سمجھانے اور سڑک سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔

مقامی پولیس کے مطابق واقعے کی وائرل ویڈیو کی مدد سے خاتون کی شناخت اور معاملے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واقعے کی اصل وجہ کیا تھی۔ خاتون کی شناخت کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں کے ذریعے اس تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ معاملے کی مزید تحقیقات کرکے قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

اس واقعے کا تاحال پولیس کی جانب سے کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ٹریفک جام میں پھنسے کسی شہری یا متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور نے متعلقہ تھانے میں تحریری درخواست یا شکایت جمع نہیں کرائی، جو مقدمہ درج نہ ہونے کی ایک اہم وجہ بتائی جارہی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت موقع پر صرف مرد ٹریفک پولیس اہلکار موجود تھے، جبکہ خواتین پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی کے باعث خاتون کو تحویل میں لینے یا فوری گرفتاری کی کارروائی نہیں کی جاسکی۔

شارع فیصل اور گلستان جوہر تھانوں کی حدود سے متعلق پولیس حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی مدد سے خاتون کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس نے واقعے کا اندراج روزنامچے میں کرکے ویڈیو کی بنیاد پر ابتدائی تحقیقات اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق خاتون کی شناخت ہونے یا ٹریفک پولیس کی جانب سے سرکاری مدعیت میں کارروائی کا فیصلہ کیے جانے کی صورت میں کارِ سرکار میں مداخلت اور سڑک بند کرکے ٹریفک کی روانی متاثر کرنے سے متعلق قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp