بھارت کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے معروف اداکار نصیرالدین شاہ کو ’اربن نکسل‘ اور ’تخریبی ذہن رکھنے والا دانشور‘ قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ ردعمل اداکار کی جانب سے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں ویڈیو جاری کرنے کے بعد سامنے آیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نصیرالدین شاہ نے منگل کو فیس بک پر جاری ویڈیو میں خود کو ’دماغی نکسل‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ حکومت کے ناقدین کے لیے مزید کون سے القاب استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر نوجوانوں کی حوصلہ شکنی، تعلیمی نظام کو نقصان پہنچانے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا۔
I thought Naseeruddin Shah was just an ordinary actor. I used to respect & like him.. I never knew that he was a dangerous urban Dimagi Naxal !
मुझे उसके असली चरित्र के बारे में बहुत देर से पता चला।। भारत के लोकतंत्र के लिए अत्यंत हानिकारक है। pic.twitter.com/McSDNBJjPt
— Kiren Rijiju (@KirenRijiju) October 28, 2026
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پہلے نصیرالدین شاہ کو ایک عام اداکار سمجھتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے، تاہم اب انہیں اداکار کا ’اصل کردار‘ معلوم ہوا ہے۔ وزیر نے ان کے طرزِعمل کو بھارتی جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
نصیرالدین شاہ نے اپنی ویڈیو میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کو یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ نوجوانوں کے حوصلے توڑنے اور تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے مزید کیا کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نصیر الدین شاہ کی کرکٹ سے لگاوٹ کا قصہ
اداکار حالیہ مہینوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں بیانات دیتے رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے اور یونین کے آئین کی منظوری کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے۔











