طلبہ کی حمایت پر بھارتی وزیر برہم، نصیرالدین شاہ کو ’اربن نکسل‘ قرار دے دیا

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے معروف اداکار نصیرالدین شاہ کو ’اربن نکسل‘ اور ’تخریبی ذہن رکھنے والا دانشور‘ قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ ردعمل اداکار کی جانب سے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں ویڈیو جاری کرنے کے بعد سامنے آیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نصیرالدین شاہ نے منگل کو فیس بک پر جاری ویڈیو میں خود کو ’دماغی نکسل‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ حکومت کے ناقدین کے لیے مزید کون سے القاب استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر نوجوانوں کی حوصلہ شکنی، تعلیمی نظام کو نقصان پہنچانے اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی عائد کیا۔

کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پہلے نصیرالدین شاہ کو ایک عام اداکار سمجھتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے، تاہم اب انہیں اداکار کا ’اصل کردار‘ معلوم ہوا ہے۔ وزیر نے ان کے طرزِعمل کو بھارتی جمہوریت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

نصیرالدین شاہ نے اپنی ویڈیو میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں طلبہ کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کو یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ نوجوانوں کے حوصلے توڑنے اور تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے مزید کیا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:نصیر الدین شاہ کی کرکٹ سے لگاوٹ کا قصہ

اداکار حالیہ مہینوں میں مختلف تعلیمی اداروں کے احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں بیانات دیتے رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے اور یونین کے آئین کی منظوری کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے۔ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp