امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران کانگریس پر کنٹرول کے لیے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے، جس کے نتائج نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کی سیاست کا رخ متعین کریں گے بلکہ ری پبلکن پارٹی میں ان کی گرفت کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
انتخابی معرکے میں 5 اہم معاملات توجہ کا مرکز ہیں، جن میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں، ری پبلکنز کی مضبوط ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی، ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست، ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کا امتحان اور خود صدر ٹرمپ کی مقبولیت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات، کانگریس پر کنٹرول کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز میں مقابلہ
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق انتخابی جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کا مضبوط امیدوار قرار دیا جارہا ہے، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی دونوں جماعتوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ری پبلکنز کو مہنگائی، ایران کے ساتھ جاری جنگ، حکومتی بدعنوانی کے تاثر اور امیگریشن پالیسی پر عوامی ناراضی کا سامنا ہے۔
نئی انتخابی حلقہ بندیاں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی؟
2025 اور 2026 کے دوران ری پبلکنز کے زیرِ اقتدار بعض ریاستوں میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندیاں کی گئیں تاکہ ڈیموکریٹس کے مضبوط حلقوں میں کامیابی کے امکانات بڑھائے جاسکیں۔ ڈیموکریٹس نے بھی اس کے جواب میں اپنی حکمت عملی ترتیب دی۔
ٹیکساس اور فلوریڈا میں ری پبلکنز نے 9 نشستوں کے حلقوں کو اپنے لیے زیادہ سازگار بنایا، تاہم انتخابی تجزیوں کے مطابق ان میں سے صرف 3 نشستوں پر ری پبلکنز کو واضح برتری حاصل ہے۔ ہسپانوی ووٹرز کی حمایت میں تبدیلی بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 16 اکتوبر کے سروے میں 51 فیصد رجسٹرڈ ہسپانوی ووٹرز نے ڈیموکریٹک امیدواروں جبکہ 24 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت کی۔
ری پبلکنز کی مضبوط ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی پیش قدمی
کنساس، مسیسیپی اور جنوبی کیرولائنا جیسی ریاستوں میں بھی سینیٹ کے مقابلے توقعات سے زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔ کنساس میں ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن کا سامنا ہے۔ مسیسیپی میں سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم نے انتخابی دوڑ کو دلچسپ بنادیا ہے۔
جنوبی کیرولائنا میں ری پبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز کے مقابلے میں سخت چیلنج درپیش ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس کو مینیسوٹا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں ان کے امیدواروں کو معمولی برتری حاصل ہے۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی نظریں سینیٹ کی نشست پر
ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پارٹی کے لیے بڑی سیاسی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کو ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کا سامنا ہے، جنہیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ انتخابی جائزوں میں ٹالاریکو کو معمولی برتری دکھائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں شٹ ڈاؤن نیویارک میئر کے انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ
سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز کی 4 نشستیں جیتنے کے ساتھ اپنی تمام موجودہ نشستیں بھی برقرار رکھنا ہوں گی۔ ٹیکساس میں کامیابی انہیں اس ہدف کے قریب لے جاسکتی ہے۔ دوسری جانب ایلون مسک نے کین پیکسٹن کی انتخابی مہم کے لیے اکتوبر کے آخر تک کم از کم 189.6 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کا امتحان
مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے عبدل السید اور سابق ری پبلکن رکن کانگریس مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ عبدل السید نے عوامی فلاح، یکساں طبی سہولتوں، ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں پر ٹیکس بڑھانے اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے وعدوں کے ساتھ انتخابی مہم چلائی ہے۔
ان کی کامیابی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا سے وابستہ امیدواروں کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تاہم پارٹی کے بعض اعتدال پسند رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ انتہائی بائیں بازو کی سیاست کی طرف جھکاؤ ڈیموکریٹس کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
کیا انتخابات ٹرمپ کی مقبولیت کا فیصلہ کریں گے؟
وسط مدتی انتخابات کو صدر ٹرمپ کی قیادت اور ری پبلکن پارٹی پر ان کے اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس میں سخت نگرانی اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، محصولات، معیشت اور امیگریشن سے متعلق فیصلوں پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔ بعض ری پبلکن رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران صدر سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم انتخابی شکست کے بعد بھی پارٹی میں ٹرمپ کی گرفت کم ہونا یقینی نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل امتحان یہ ہوگا کہ ری پبلکن رہنما عوامی ناراضی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی قیادت پر نظرثانی کرتے ہیں یا انتخابی ناکامی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اسی سیاسی راستے پر آگے بڑھتے ہیں۔











