امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹ کتوں کو شہر کی سڑکوں پر سیر کرانے کے لیے افراد کو فی گھنٹہ 20 ڈالر معاوضے کی پیش کش کی ہے۔
مزید پڑھیں:روبوٹس کو کام سکھانے کے لیے بھارتی مزدوروں کی ویڈیوز، روزگار کا نیا موقع یا مستقبل کا خطرہ؟
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی ’ڈائمینشنل‘ نے امیدواروں کو روزانہ 4 سے 6 گھنٹے روبوٹ کتوں کے ساتھ عوامی مقامات پر چلنے کی ذمہ داری دینے کے لیے ملازمت کا اشتہار جاری کیا تھا، جسے بعد میں ہٹا دیا گیا۔ امیدواروں کے لیے روبوٹکس کا سابقہ تجربہ لازمی نہیں تھا۔
旧金山有家新创公司雇人在街头遛机器狗,一小时$20。机器狗是向中国宇树公司买的,原本是遥控的,他们想训练成用AI控制的。 https://t.co/4YSezcfIHd
— 方舟子 (@fangshimin) October 29, 2026
کمپنی کے بانی اسٹیش پومیخٹر کے مطابق اس تجربے کا مقصد روبوٹس کو حقیقی ماحول میں بہتر انداز سے حرکت کرنا سکھانا ہے۔ اس دوران انسان روبوٹ کتوں کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ ان کے کیمرے اور سینسر راستوں اور اردگرد کے ماحول سے متعلق معلومات جمع کرتے ہیں۔ اس ڈیٹا سے مصنوعی ذہانت کے نظام کو خود مختار انداز میں راستہ تلاش کرنے کی تربیت دی جاسکتی ہے۔
کمپنی کے تجربات سے ظاہر ہوا کہ روبوٹس کو کنٹرول کرنے میں مصنوعی ذہانت ابھی انسانی آپریٹرز جتنی مؤثر نہیں۔ بعض اوقات روبوٹ زیادہ گرم ہونے یا کام کرنا چھوڑ دینے کے باعث بند بھی ہوجاتے ہیں، ایسی صورت میں کارکنوں کو قریباً 15 کلوگرام وزنی روبوٹ اٹھا کر دفتر واپس لے جانا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:فیکٹریوں میں انسانوں کے بعد روبوٹس کا راج، دنیا بھر میں تعداد 50 لاکھ سے بڑھ گئی
کمپنی مستقبل میں روبوٹس کو کارخانوں، ڈیٹا سینٹرز، تعمیراتی مقامات اور حفاظتی نگرانی جیسے کاموں میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ تاہم، خودکار نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے ساتھ عوامی مقامات پر روبوٹس کی حفاظت، ضابطوں اور ممکنہ حادثات کی ذمہ داری جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔











