وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے حکومت کے طرزِ عمل اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار پر تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ان کے ماضی کے سیاسی مؤقف، سابقہ حکومتوں میں شمولیت اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سیاسی اختلافات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی پاکستان کے دفاع سے متعلق بات چیت جاری تھی، بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن اور فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے گئے تھے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے کردار پر بھی بات کی، جس کے جواب میں وہ ایوان کے سامنے صورت حال واضح کرنا چاہتے تھے۔
میں نے کل کا کچھ ادھار، اتار دیا ہے، تھوڑی اور اجازت دیں تو باقی بھی اتار دیتا ہوں۔
اگر مولانا کو خیبر پختونخوا حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو کل والی تقریر نہ ہوتی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف pic.twitter.com/0iX8X7lw2y— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ملک کی سیاسی تاریخ میں مقام ہے اور ان کے والد بھی ایک اہم سیاسی شخصیت تھے، تاہم سیاسی رہنماؤں کو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وسیع القلبی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا نے ایران میں مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کس تناظر میں کی تھی اور کیا اس کے پیچھے اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کی کوشش کارفرما تھی۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی نظام کا حصہ رہنے اور طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ انہوں نے اس عہدے پر رہتے ہوئے کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے اہم قومی معاملے پر نمائندگی کرنے والے شخص کی ساکھ اور کردار اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع نے اپنے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن بعد کے حالات کے تناظر میں اپنے مؤقف پر معذرت بھی کی۔ ان کے بقول سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلوں اور سیاسی وابستگیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
میں نے ان کی غلط بیانی کی تصحیح کی ہے۔ ایوان سے قوم کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات کی نہیں، بلکہ اس ملک کی سالمیت اور حفاظت کی سیاست کریں۔ یہاں سے عزت و آبرو والا پیغام جانا چاہیے، بجائے اس کے کہ دست و گریباں ہوں۔ راستے نکالنے چاہییں، بند نہیں کرنے چاہییں۔ اگر… pic.twitter.com/VAKtfEDtij
— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور سیاسی تعاون بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورت حال میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم اختلافات کے باوجود قومی مفاد اور سیاسی وقار کو مقدم رکھنا چاہیے۔











