خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، ماضی کے سیاسی کردار اور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے حکومت کے طرزِ عمل اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار پر تبصروں کا جواب دیتے ہوئے ان کے ماضی کے سیاسی مؤقف، سابقہ حکومتوں میں شمولیت اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سیاسی اختلافات کے باوجود بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی پاکستان کے دفاع سے متعلق بات چیت جاری تھی، بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن اور فریقین کے درمیان صلح کی راہ ہموار کرنے گئے تھے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے کردار پر بھی بات کی، جس کے جواب میں وہ ایوان کے سامنے صورت حال واضح کرنا چاہتے تھے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ملک کی سیاسی تاریخ میں مقام ہے اور ان کے والد بھی ایک اہم سیاسی شخصیت تھے، تاہم سیاسی رہنماؤں کو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وسیع القلبی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا نے ایران میں مذاکرات کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیشکش کس تناظر میں کی تھی اور کیا اس کے پیچھے اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کی کوشش کارفرما تھی۔

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی نظام کا حصہ رہنے اور طویل عرصے تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ انہوں نے اس عہدے پر رہتے ہوئے کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے اہم قومی معاملے پر نمائندگی کرنے والے شخص کی ساکھ اور کردار اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع نے اپنے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت کی حمایت کی تھی، لیکن بعد کے حالات کے تناظر میں اپنے مؤقف پر معذرت بھی کی۔ ان کے بقول سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر تنقید کرتے ہوئے اپنے سابقہ فیصلوں اور سیاسی وابستگیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مختلف سیاسی جماعتیں ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور سیاسی تعاون بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورت حال میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم اختلافات کے باوجود قومی مفاد اور سیاسی وقار کو مقدم رکھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا