بھارت میں جیل کی سلاخیں بھی بے بس، جرائم پیشہ گروہ اندر بیٹھ کر باہر کی دنیا کیسے چلاتے ہیں؟

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں معاشرے کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیل پہنچنے کے بعد بھی جرائم پیشہ گروہوں کے سربراہوں کا اثرورسوخ ختم نہیں ہوتا۔ وہ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی اپنے ساتھیوں سے رابطے میں رہتے ہیں، بھتہ وصولی کے احکامات دیتے ہیں، نئے افراد کو گروہ میں شامل کرتے ہیں اور بعض اوقات قتل و حملوں کی منصوبہ بندی بھی کرتے ہیں۔

بھارتی فلم ’ستیہ‘ کا ایک مکالمہ اس صورت حال کو خوب بیان کرتا ہے۔ فلم میں پولیس کمشنر مایوسی کے عالم میں کہتا ہے کہ ’پولیس جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرتی ہے تو وہ رہا ہوجاتے ہیں، اور اگر جیل چلے بھی جائیں تو اندر بیٹھ کر اپنا نیٹ ورک چلاتے رہتے ہیں‘۔ اس مکالمے میں بیان کی گئی صورت حال محض فلمی کہانی نہیں، بلکہ بھارت کے جرائم پیشہ گروہوں کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں سامنے آچکی ہیں۔

جیل یا جرائم کے نیٹ ورک کا مرکز؟

عام طور پر جیل کا مقصد مجرموں کو معاشرے سے الگ رکھنا، انہیں سزا دینا اور اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بعض جرائم پیشہ گروہوں کے لیے جیل ایک محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔ وہاں انہیں اپنے مخالفین سے بچنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ باہر موجود ساتھی ان کے احکامات پر کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔

بھارت میں لارنس بشنوئی گینگ کا معاملہ اس کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف سے متعلق فائرنگ کے واقعے میں بھی اس گروہ کے مبینہ کردار کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ لارنس بشنوئی گجرات کی سابرمتی جیل میں قید ہے، جبکہ اس کا بھائی انمول بشنوئی دہلی کی تہاڑ جیل میں ہے۔ اس کے باوجود دونوں پر گزشتہ برسوں کے دوران ممبئی میں ہونے والی بعض بڑی فائرنگ کی وارداتوں کے احکامات دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جیل سے جرائم چلانے کی پرانی روایت

جیل کے اندر بیٹھ کر جرائم پیشہ سرگرمیاں چلانے کا معاملہ نیا نہیں۔ ممبئی انڈر ورلڈ کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ 1990 کی دہائی اور اس کے بعد کے برسوں میں جہاں داؤد ابراہیم، چھوٹا راجن اور ابو سالم جیسے گروہ بیرون ملک سے اپنے نیٹ ورک چلاتے رہے، وہیں ارون گاؤلی اور اشون نائیک جیسے جرائم پیشہ افراد پر جیل میں رہتے ہوئے بھی اپنے ساتھیوں کو احکامات دینے کے الزامات لگتے رہے۔

ممبئی، پونے، تھانے اور ناسک کی جیلوں سے مبینہ طور پر بھتہ وصولی، فائرنگ اور قتل کی کارروائیوں کے لیے افراد بھرتی کیے جاتے اور ہدایات پہنچائی جاتی تھیں۔ اشون نائیک پر اپنی اہلیہ نیتا نائیک کے قتل کا حکم جیل سے دینے کا الزام بھی لگا تھا۔ تاہم پولیس عدالت میں یہ الزام ثابت نہ کرسکی اور نائیک اس مقدمے میں بری ہوگیا۔

اسی طرح ارون گاؤلی پر جیل میں رہتے ہوئے جینت جادھو کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جادھو کو شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کا قریبی ساتھی بتایا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جادھو نے گاؤلی کو ایک جیل سے دوسری جیل منتقل کرانے میں کردار ادا کیا تھا، جس پر مبینہ طور پر ناراضی کے باعث گاؤلی نے اس کے قتل کا حکم دیا۔

موبائل فون، ملاقاتیں اور رشوت کا راستہ

جیل کے اندر سے جرائم کا نیٹ ورک چلانے میں بدعنوانی بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ بعض جیل اہلکاروں پر الزام لگتا رہا ہے کہ وہ رشوت یا تحائف کے بدلے قیدیوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کرتے اور ان کے بیرونی ساتھیوں سے رابطے میں مدد دیتے ہیں۔

جرائم پیشہ گروہوں کے سربراہ اپنے وکلا اور قانونی طور پر ملاقات کی اجازت رکھنے والے افراد کے ذریعے بھی پیغامات پہنچا سکتے ہیں۔ ضمانت پر رہا ہونے والے، سزا مکمل کرنے والے یا عدالت میں پیشی کے لیے جیل سے باہر جانے والے قیدی بھی بعض اوقات پیغامات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

اس رابطے کو اسمگل کیے گئے موبائل فون نے مزید آسان بنادیا ہے۔ ان فونز کے ذریعے جیل میں موجود گروہ کے سربراہ باہر اپنے ساتھیوں، بھتہ دینے سے انکار کرنے والے افراد اور حتیٰ کہ ذرائع ابلاغ سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

مارچ 2023 میں لارنس بشنوئی نے حراست میں ہونے کے باوجود ایک ہندی نیوز چینل کو 2 انٹرویو دیے۔ پہلا انٹرویو پنجاب پولیس کی حراست کے دوران اور دوسرا جے پور سینٹرل جیل میں قیام کے وقت دیا گیا۔ 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ سابرمتی جیل سے ویڈیو کال کے ذریعے پاکستانی جرائم پیشہ شخص شہزاد بھٹی کو عید کی مبارک باد دیتا دکھائی دیا۔

اسی سال پولیس کو ایک قیدی ہاشم بابا نے مبینہ طور پر بتایا کہ بشنوئی کے پاس موبائل فون موجود تھا اور وہ باہر کی دنیا سے رابطہ کرسکتا تھا۔ مہاراشٹر میں جیل افسر سواتی ساتھے نے مختلف جیلوں میں چھاپے مار کر قیدیوں سے موبائل فون بھی برآمد کیے تھے۔

خفیہ اداروں سے مبینہ روابط کا سوال

جیلوں میں بعض قیدیوں کو موبائل فون اور دوسری سہولتیں ملنے کے حوالے سے ایک اور متنازع پہلو بھی سامنے آتا رہا ہے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ بعض جرائم پیشہ افراد کے خفیہ اداروں سے روابط ہوتے ہیں اور انہیں مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان الزامات کے مطابق بعض جرائم پیشہ گروہوں کے نیٹ ورک کو مخالف گروہوں یا دشمن عناصر کے خلاف استعمال کرنے کے بدلے انہیں جیل میں تحفظ اور دوسری سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ایسے معاملات میں الزامات اور ثابت شدہ حقائق کے درمیان فرق رکھنا ضروری ہے۔ اگر اس نوعیت کے انتظامات ثابت ہوں تو یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار اور جرائم کی روک تھام کے نظام سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔

گرفتاری کے بعد بھی کارروائیاں کیوں نہیں رکتیں؟

ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کے سلسلے میں ممبئی پولیس انمول بشنوئی کو تہاڑ جیل سے اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے پولیس لارنس بشنوئی کو سابرمتی جیل سے تحویل میں لینے کی کوشش بھی کرچکی ہے، لیکن اسے کامیابی نہیں ملی۔ ممبئی پولیس نے بھارتی وزارت داخلہ سے اجازت بھی طلب کی تھی، تاہم اس کی کوششیں مطلوبہ نتیجہ نہ دے سکیں۔

یہ صورت حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر کسی جرائم پیشہ گروہ کا سربراہ جیل میں رہتے ہوئے بھی اپنے نیٹ ورک کو احکامات دے سکتا ہے تو محض گرفتاری سے جرائم کا سلسلہ کیسے رکے گا؟ اس کے لیے جیلوں میں بدعنوانی کی روک تھام، غیر قانونی موبائل فونز کی فراہمی بند کرنے اور قیدیوں کے بیرونی رابطوں کی مؤثر نگرانی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ورنہ جیل کی دیواریں مجرم کو قید تو کرسکتی ہیں، لیکن اس کے جرائم کے نیٹ ورک کو روکنے کے لیے شاید کافی ثابت نہ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp