گائے ذبح کرنے کا الزام: قدیم ہندو مذہبی کتاب کی بنیاد پر 3 مسلمانوں کو عمر قید اور سنگین جرمانے کی سزا

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدیم ویدک تعلیمات کو جدید قانونی نتائج سے جوڑتے ہوئے، گجرات کے ضلع گاندھی نگر کی ایک عدالت نے ذبحِ گاؤ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے 3 مسلمانوں کو عمر قید اور فی کس 3 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

کالول سیشنز کورٹ نے پیر کے روز اپنے فیصلے کا آغاز سنسکرت کے قدیم متن ‘منوسمرتی’ کے شلوکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کیا، جن میں گائے کو کائنات کی ماں اور عالمگیر بہبود کا ستون قرار دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ گاندھی نگر ضلع کے گاؤں جاملا میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے، جہاں مقامی پولیس نے مبینہ طور پر ملزمان کو بڑی مقدار میں گوشت تیار کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا  کہ مویشیوں کا تحفظ فرض، رحم دلی اور مطلق سچائی کے نافذ العمل ہونے سے گہرا جڑا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے بھارت: غازی آباد میں چکن لے جانے پر بزرگ مسلمان شہری پر مبینہ تشدد، ویڈیو وائرل

سماعت کے دوران اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر جگنیش ایچ جوشی نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان نے قائم شدہ قوانین کو نظر انداز کر کے مویشیوں کو بے دردی سے ذبح کرنے کا سنگین جرم کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ ثقافتی و سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قانونی نتائج ضروری ہیں۔

عدالت نے بالآخر ملزمان جن کی شناخت وسیم شہاب الدین بابو قریشی، محمد رفیق محمد حنیف علی بھائی قریشی، اور اشفاق عرف سلمان اللہ رکھا عبدالبہلیم کے نام سے ہوئی کو ‘گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ’ کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سخت مشقت کے ساتھ عمر قید اور 3،3 لاکھ روپے کے سنگین مالی جرمانے کی سزا سنائی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp