فوج پر تنقید کرنے والوں کو سرحدی جوانوں کی قربانیاں اور دفاعی چیلنجز بھی مدنظر رکھنے چاہییں

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افواجِ پاکستان کی دفاعی کارروائیوں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ملک کا دفاع صرف دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور قربانیوں سے ممکن ہوتا ہے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری اور بھارتی طیارے گرائے جانے کے واقعات پوری دنیا نے دیکھے، اس کے باوجود ان واقعات کو ڈراما قرار دینا حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان کو دہشتگردی کے مسلسل خطرات کا سامنا ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سرحد پار ٹھکانوں کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور عالمی شواہد میں ان ٹھکانوں کا ذکر سامنے آتا رہا ہے، ایسے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور ملک کے دفاع کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے زمینی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کی سرحد پر اشتعال انگیزی، فائرنگ سے ایک شہری شہید، 5 زخمی، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، متعدد چیک پوسٹیں تباہ

تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد کی حفاظت کوئی آسان کام نہیں۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور منفی 15 ڈگری تک درجہ حرارت میں فوجی جوان سرحدوں کی نگرانی اور حفاظت کرتے ہیں۔ سرحدی باڑ کی تنصیب اور اس کے مؤثر انتظام کے لیے غیر معمولی محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔

امریکا جیسے ملک کو بھی اپنی سرحدوں کی مکمل نگرانی اور حفاظت میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، ایسے میں پاکستان کے سرحدی حالات اور فوجی جوانوں کی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ملک کے دفاع کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ اس لیے افواجِ پاکستان پر تنقید کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے جوان کن حالات میں فرائض انجام دیتے ہیں اور ان کی قربانیوں کی اہمیت کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp