کام کی جگہ پر ہراسانی صرف جنسی نوعیت تک محدود نہیں، صنفی امتیاز اور تذلیل بھی اس میں شامل ہیں، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی اسمبلی نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے دائرہ کار سے متعلق اہم قرارداد منظور کرلی، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ صنفی امتیاز، دھمکانے، تذلیل کرنے، توہین آمیز سلوک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں بھی سامنے آسکتی ہے۔

جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ قرارداد رکن قومی اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

قرارداد میں پارلیمنٹ کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے تحفظ اور آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کی برابری کے اصولوں کے مطابق ہر فرد کو کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کی تمام اقسام سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کو صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس میں صنفی بنیادوں پر امتیاز، دھمکانا، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخالفانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی شامل ہے، خواہ ان کا تعلق جنسی نوعیت کے طرز عمل سے ہو یا نہ ہو۔

ایوان نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون 2010 اور اس میں 2022 میں کی گئی ترامیم کے تحت حاصل قانونی تحفظات کی توثیق بھی کی۔ قرارداد کے مطابق قانون صنفی بنیادوں پر ہونے والے جنسی اور غیر جنسی دونوں طرح کے امتیازی سلوک کو ہراسانی کے دائرے میں تسلیم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون صحافیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا واقعہ، اعلیٰ پولیس افسر کے خلاف تحقیقات شروع

قرارداد میں مزید واضح کیا گیا کہ کسی جنسی پیش قدمی یا مطالبے کی عدم موجودگی سے صنفی بنیادوں پر ہونے والی ہراسانی یا امتیازی سلوک کی سنگینی کم نہیں ہوجاتی۔ کسی فرد کے وقار کو ہراسانی کی مختلف اقسام کے درمیان محدود فرق کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور قانون کے دائرے میں آنے والے ہر عمل سے یکساں سنجیدگی، انصاف اور جواب دہی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فرد کو محض اس وجہ سے قانونی تحفظ سے محروم نہ رکھا جائے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ہراسانی یا صنفی امتیاز جنسی نوعیت کا نہیں تھا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ایسا ماحول جہاں ہراسانی، تذلیل اور صنفی امتیاز نہ ہو، کوئی رعایت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔

قرارداد کی منظوری کا پس منظر

اگرچہ قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد میں کسی مخصوص واقعے کا حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم حالیہ دنوں میں وکلا اور صحافیوں نے وفاقی آئینی عدالت کے ایک فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے ایک ملازم کی جانب سے 2012 میں دائر کردہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں کرنے کا کیس نمٹا دیا گیا، پولیس کی آئندہ ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی

جسٹس علی باقر نجفی کی تحریر کردہ عدالتی حکم میں کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون 2010 میں ہراسانی کی تعریف نقل کی گئی تھی۔ عدالت نے اس تعریف کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ 2010 کے قانون کے تحت کسی عمل، رویے یا طرز عمل کو ہراسانی قرار دینے کے لیے اس کا جنسی نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔

قومی اسمبلی کی قرارداد میں اسی قانونی دائرہ کار کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صنفی امتیاز اور غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی بھی قانونی تحفظ کے مستحق ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp