آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں 15.27 فیصد کا بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل این جی کی قیمتوں میں فی ملین برٹش تھرمل یونٹ 17.2 ایم ایم بی ٹی یو ڈالر تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے بعد گیس نرخوں میں 124 فیصد تک اضافہ
اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے دونوں اہم گیس ڈسٹری بیوشن سسٹمز پر صارفین کے لیے نئے اور مہنگے نرخ نافذ العمل ہو گئے ہیں۔
ایس این جی پی ایل سسٹم پر نئے نرخ
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے بعد ’ایس این جی پی ایل‘ کے نیٹ ورک پر ایل این جی کی نئی قیمت بڑھ کر 17.32 ڈالر فی ’ایم ایم بی ٹی یو‘ مقرر کر دی گئی ہے۔
ایس ایس جی سی کے صارفین کے لیے قیمتوں میں ردوبدل
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی ) کے ڈسٹری بیوشن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں بڑا اضافہ: پہلی سہ ماہی میں حجم 5.14 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
قیمت میں اس ردوبدل کے بعد ایس ایس جی سی سسٹم پر نئی شرح 16.39 ڈالر فی ’ایم ایم بی ٹی یو‘ تک پہنچ گئی ہے۔
ماہانہ قیمتوں کی نظرثانی
ترمیم شدہ نئے نرخ دونوں گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے سسٹمز پر ’ایل این جی‘ کی ماہانہ بنیادوں پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی لاگت میں اضافے کی وجہ سے اوگرا ہر ماہ ایل این جی کے ریٹس پر نظرثانی کر کے نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔











