ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر جمعے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز آبنائے ہرمز سے غیر مجاز راستوں کے ذریعے گزرنے والے یہ چوتھا تیل بردار جہاز تھا جس میں دھماکا ہوا۔ ایرانی حکام نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ فوری طور پر یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ آگ لگنے سے جہاز کو کتنا نقصان پہنچا اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں یا نہیں۔
Iran's Revolutionary Guards Navy has said that four oil tankers had caught fire and exploded in the Strait of Hormuz, while attempting to use what it described as unauthorised routes, Iranian state media reported.
Iranian state television aired footage showed smoke rising from… pic.twitter.com/yWwjiusknr
— TRT World (@trtworld) October 31, 2026
ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی حکام سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ تہران نے گزشتہ ماہ بھی خبردار کیا تھا کہ اجازت کے بغیر اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں کو تباہی کے خطرے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے مختلف ممالک کو بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی دیگر مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس علاقے میں بحری جہازوں پر حملوں اور دھماکوں کے واقعات سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت متاثر ہونے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔











