معروف صحافی جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اربوں روپے کے ترقیاتی ٹھیکوں اور جائیدادوں کی ظاہر کردہ اور تخمینہ شدہ مالیت میں بڑے فرق کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید چوہدری نے کہا کہ ان کے پاس مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ایک طویل تفصیل موجود ہے، جس میں کئی افراد اور ٹھیکوں کا ذکر شامل ہے۔ ان کے مطابق اکرم خان پانیزئی نامی کاروباری شخصیت اور ٹھیکے دار نے پی ڈی ایم حکومت کے دور میں بڑے ترقیاتی ٹھیکے حاصل کیے، جبکہ بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔
سماء نیوز کے پروگرام ’’مؤقف‘‘ میں فضل الرحمان کے خاندان پر مبینہ کرپشن کے الزامات! جاوید چوہدری کے مطابق 36 ارب کے ٹھیکوں میں مالی بے ضابطگیوں کا الزام، جبکہ عبدالستار خان نے چار جائیدادوں کی مالیت میں 3 ارب 12 کروڑ کے فرق کا دعویٰ کیا۔#مولانا_آن_فائر pic.twitter.com/WzIL68dG0I
— Nyla Afzal (@Nailaafzal102) October 31, 2026
جاوید چوہدری نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کے پاس وزارتِ مواصلات کے تحت این ایچ اے سے متعلق امور تھے اور اس دوران کئی ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے۔ ان منصوبوں میں رتوڈیرو سے شکرپڑ تک 5 ارب روپے کی سڑک، خضدار سے کچلاک روڈ، چترال شندور روڈ، قلعہ سیف اللہ سے لورالائی اور کوہلو سے ڈیرہ بگٹی تک سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کے بقول ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 36 ارب روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کے بیان پر اوورسیز پاکستانی کا سخت ردعمل، ریاست اور سیاست میں فرق ملحوظ رکھنے کا مطالبہ
انہوں نے اکرم خان پانیزئی کی ممکنہ گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گرفتار ہو کر وعدہ معاف گواہ بن گئے تو مولانا فضل الرحمان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ جاوید چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر جنریٹر رکھنے اور گارڈ پوسٹ کی مبینہ غیر قانونی تعمیر پر نوٹس لگایا ہے۔
پروگرام میں شریک عبدالستار خان نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کی 4 جائیدادوں کی ظاہر کردہ مجموعی مالیت 2 کروڑ 7 لاکھ روپے تھی، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے لگائے گئے تخمینے میں ان کی مالیت تین ارب 15 کروڑ روپے بتائی گئی۔ ان کے مطابق دونوں مالیتوں میں تقریباً تین ارب 12 کروڑ روپے کا فرق تھا۔
جاوید چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی مایوسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ آصف علی زرداری کے صدر اور شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد انہیں بھی اقتدار میں مناسب حصہ ملے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھی مولانا فضل الرحمان کو انتظامی نظام میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:مدرسے کے لیے کرائے پر دیا گھر مبینہ قبضے میں، مالک کی گورنر خیبر پختونخوا سے واگزار کرانے کی اپیل
انہوں نے کہا کہ یہ 12 اضلاع مولانا فضل الرحمان کی جماعت کے اہم سیاسی حلقے ہیں۔ اگر وہاں کونسل کا موجودہ نظام دو سے ڈھائی سال تک برقرار رہا تو نئی سیاسی قیادت سامنے آسکتی ہے، جس سے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے لیے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔











