ایران نے نئی تجویز کے تحت آبنائے ہرمز کو 2 روز کے اندر مکمل طور پر کھولنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ثالثوں کے ساتھ زیرِ بحث تجویز پر پیش رفت کی صورت میں اہم بحری گزرگاہ دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ تہران کا فی الحال امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم ایرانی مذاکرات کار دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ ایران نے اس سے قبل بھی ایک ہفتے میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی تھی، جس کے لیے امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔ امریکی حکام نے اس سابقہ تجویز کو مسترد کردیا تھا۔
Iranian FM Abbas Araghchi says talks are ongoing with Qatari mediators on a plan to reopen the Strait of Hormuz within two days if the US implements Tehran’s conditions.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/wX8G1qVO5Y pic.twitter.com/eP2WxcIM2f
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 1, 2026
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہیں تہران کے وعدوں پر اعتماد نہیں۔ فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران پہلے بھی معاہدے کرکے پیچھے ہٹ چکا ہے، اس لیے دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ اس بار اپنے وعدے پورے کرتا ہے یا نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا اور وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور فوجی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی باقی ماندہ ایک یا 2 جوہری تنصیبات کو بھی مختصر وقت میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے زیرِ زمین جوہری تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کا بھی ذکر کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کو اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر ایران کی صورتحال اور ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں پر بات کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے اور تہران نے کسی نئی امریکی یا اسرائیلی کارروائی کی صورت میں جوابی اقدام کی تنبیہ کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا آنے والے 2 سے 3 دن میں ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے؟
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج اب تک 144 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کراچکی ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس جارج واشنگٹن‘ بھی ناکہ بندی پر عمل درآمد میں معاونت کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز پر پیشرفت خطے میں جاری جنگ کے خاتمے اور عالمی بحری تجارت کے لیے اہم پیشرفت ہوسکتی ہے، تاہم مجوزہ معاہدے کی شرائط اور اس پر امریکا کے ردعمل سے متعلق صورت حال ابھی واضح نہیں۔











