وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پسند ناپسند کا کلچر ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اب پنجاب میں قبضہ مافیا اور رسہ گیروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
سالک حسین کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئےعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سفارشوں کے ذریعے ڈیرے کے ملازمین کو پالنے کا رواج بھی اب پنجاب میں نہیں رہا۔
’اپنی مرضی کا ایک ڈپٹی کمشنر تعینات نہ ہونے پر اتنا غصہ جائز نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کسی کے کہنے پر ڈی سی تعینات نہیں کرتیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: حکومت چلنی تو ہے مگر کس سمت میں اس کا تعین ہونا باقی ہے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ بلاتفریق تمام شہروں میں یکساں ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔
’پورے صوبے میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور لاہور کے بچوں کو ملنے والے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس گجرات، ملتان، رحیم یار خان، ساہیوال اور سرگودھا کے بچوں کو بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔‘
وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق لاہور میں چلنے والی الیکٹرک بسیں ملتان، وہاڑی اور رحیم یار خان میں بھی چلائی جا رہی ہیں، جبکہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت صوبے بھر میں گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: حنا پرویز بٹ کا اپنی ٹوئٹ کا دفاع، عظمیٰ بخاری پر جوابی تنقید
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ مریم نواز نے پنجاب کے بجٹ کو شفاف اور منصفانہ انداز میں چھوٹے شہروں تک منتقل کیا ہے، لاہور میں رائج صفائی کا نظام ہی پنجاب کے دیہی علاقوں میں بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سالک حسین جس تھالی میں کھا رہے ہیں، اسی میں چھید نہ کریں۔ ’مریم نواز پہلی وزیراعلیٰ ہیں جنہوں نے سرکاری جہاز کے استعمال پر بھی رقم ادا کی ہے۔‘
عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز کی حکومت نے گجرات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 12 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ گجرات میں جو ترقیاتی کام بہت پہلے ہو جانے چاہییں تھے، وہ بھی مریم نواز نے کروا دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس جیت لیا، 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کسی کسان کو ٹریکٹر یا کسی بچے کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ دینے سے پہلے اس کی سیاسی وابستگی نہیں پوچھتیں۔
’پنجاب کے تمام شہریوں کا صوبے کے وسائل اور خزانے پر اتنا ہی حق ہے جتنا لاہور کے شہریوں کا ہے۔‘
عظمیٰ بخاری نے سالک حسین کو مشورہ دیا کہ وہ بیان بازی کرنے کے بجائے شافع حسین سے حقائق معلوم کر لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔










