قائداعظم ٹرافی کے 69ویں ایڈیشن کا آغاز کل 3 نومبر سے ہوگا، جس کے پہلے ہی راؤنڈ میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم اور ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پیر کو ٹورنامنٹ کے گولڈ اور سلور مقابلوں کا شیڈول اور ٹیموں کے اسکواڈز کا اعلان کردیا ہے۔ مقابلے بیک وقت 20 علاقائی ٹیموں کے درمیان کھیلے جائیں گے، جن کے میچز اسلام آباد، ایبٹ آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم ٹرافی 2025، کراچی بلیوز نے سیالکوٹ کو شکست دے کر ٹائٹل جیت لیا
پہلے راؤنڈ کے اہم مقابلے میں بابر اعظم لاہور وائٹس کی نمائندگی کریں گے، جس کا مقابلہ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں فاٹا کی ٹیم سے اسلام آباد کے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ میں ہوگا۔
ٹورنامنٹ میں پاکستان کے دیگر کئی نامور کھلاڑی بھی ایکشن میں دکھائی دیں گے۔ دفاعی چیمپئن کراچی بلیوز کی قیادت سعود شکیل کریں گے، پشاور بلیوز کے کپتان محمد رضوان ہوں گے، جبکہ امام الحق ملتان کی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ عبداللہ شفیق سیالکوٹ بلیوز اور محمد نواز سلور مقابلوں میں راولپنڈی کی قیادت کریں گے۔
گولڈ مقابلوں میں 8 ٹیمیں کراچی بلیوز، فیصل آباد، فاٹا، لاہور وائٹس، اسلام آباد، پشاور بلیوز، ملتان اور سیالکوٹ بلیوز ٹائٹل کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی۔
یہ مقابلے 3 نومبر سے 12 دسمبر تک جاری رہیں گے، جبکہ 5 روزہ فائنل 15 سے 19 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔ گولڈ مقابلوں کی فاتح ٹیم قائداعظم ٹرافی کے 69ویں ایڈیشن کی چیمپئن بنے گی۔
لاہور وائٹس کے اسکواڈ میں بابراعظم کے علاوہ آل راؤنڈر عامر جمال، طیب طاہر اور نعمان علی شامل ہیں، جبکہ فاٹا کی ٹیم شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں میدان میں اترے گی، جس میں خوشدل شاہ اور محمد وسیم خان بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
کراچی بلیوز نے سعود شکیل کی قیادت میں مضبوط اسکواڈ تشکیل دیا ہے، جس میں صائم ایوب اور عمیر بن یوسف بھی شامل ہیں۔ شان مسعود، ابرار احمد اور میر حمزہ کو ٹیم کے متبادل اور قومی ذمہ داریوں والے کھلاڑیوں کے پول میں رکھا گیا ہے۔
پشاور بلیوز کی قیادت وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کریں گے، جبکہ صاحبزادہ فرحان، محمد حارث اور افتخار احمد بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
12 ٹیموں پر مشتمل سلور مقابلوں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں لاہور بلیوز، راولپنڈی، لاڑکانہ، کوئٹہ، بہاولپور اور پشاور وائٹس شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں کراچی وائٹس، آزاد جموں و کشمیر، حیدرآباد، ڈیرہ مراد جمالی، ایبٹ آباد اور سیالکوٹ وائٹس کو رکھا گیا ہے۔
گروپ اے کے میچز کراچی کے کے سی سی اے اسٹیڈیم، اسٹیٹ بینک اور یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے جائیں گے، جبکہ گروپ بی کے مقابلے ملتان کرکٹ اسٹیڈیم، رحیم یار خان اسپورٹس کمپلیکس اور بہاولپور کے ڈرنگ اسٹیڈیم میں ہوں گے۔
سلور مقابلے 3 سے 30 نومبر تک جاری رہیں گے، جبکہ دونوں گروپس کی فاتح ٹیموں کے درمیان فائنل 3 سے 7 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔ سلور مقابلوں کی فاتح ٹیم کو آئندہ سیزن کے لیے گولڈ مقابلوں میں ترقی دے دی جائے گی۔
سلور مقابلوں میں ایبٹ آباد کی ٹیم میں فخر زمان اور کامران غلام شامل ہیں، جبکہ راولپنڈی کے اسکواڈ میں شاداب خان، حیدر علی، محمد نواز اور جہانداد خان کو جگہ دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈومیسٹک ٹورنامنٹ: کرکٹ کی تاریخ کا 253 سال پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا
پی سی بی کے مطابق دونوں مقابلوں میں مجموعی طور پر 60 فرسٹ کلاس میچز کھیلے جائیں گے، جن میں گولڈ کے 29 اور سلور کے 31 میچز شامل ہیں۔ دونوں مقابلوں کو فرسٹ کلاس کا درجہ حاصل ہوگا۔
یہ ٹورنامنٹ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پہلی مرتبہ پشاور اور سیالکوٹ کے علاقے فرسٹ کلاس مقابلوں میں 2، 2 ٹیمیں میدان میں اتاریں گے۔
پی سی بی کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران ٹیموں کے اسکواڈز میں ردوبدل بھی کیا جاسکے گا۔ ہر ٹیم کے ساتھ 15 کھلاڑی سفر کریں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر متبادل کھلاڑیوں اور قومی ذمہ داریوں کے باعث دستیاب نہ ہونے والے کھلاڑیوں کے پول سے بھی کھلاڑی شامل کیے جاسکیں گے۔










