خیبرپختونخوا کے جنگلات کو آتشزدگی کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے محکمہ جنگلات نے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قلعہ سیف اللہ کے اسپن غر پہاڑ میں جنگلات کی آگ، صوبے میں ماحولیاتی خطرات بڑھنے لگے
جنگلات میں آگ لگنے کی صورت میں اسے بڑے رقبے تک پھیلنے سے روکنے کے لیے باری کوٹ بلاک میں 8.2 کلومیٹر طویل فائر لائنز تعمیر کر لی گئی ہیں جنہیں جنگلات کے تحفظ کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق فاریسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ (ایف ڈی ایف) اسکیم کے تحت تعمیر کی جانے والی ان حفاظتی پٹیوں کا بنیادی مقصد آگ کے پھیلاؤ کا راستہ روکنا ہے تاکہ جنگل کے کسی ایک حصے میں لگنے والی آگ پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں نہ لے سکے۔
محکمے کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 19 سے 29 اکتوبر 2026 کے دوران مزید 3.4 کلومیٹر طویل فائر لائنز تعمیر کی گئیں جس کے بعد ایک ماہ کے دوران قائم کی جانے والی ان حفاظتی پٹیوں کی مجموعی لمبائی 8.2 کلومیٹر ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیے: نیلم ویلی کے جنگلات میں آگ: قیمتی دیودار، جڑی بوٹیاں اور جنگلی حیات شدید خطرے میں
یہ فائر لائنز کمپارٹمنٹ نمبر 14، 36 اور 45 کی پہاڑی چوٹیوں اور قدرتی ڈھلوانوں پر قائم کی گئی ہیں۔ ان مقامات پر خشک گھاس، جھاڑیوں اور دیگر آتش گیر مواد کو بھی مکمل طور پر صاف کیا گیا ہے تاکہ آگ کو ایک حصے سے دوسرے حصے تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ فائر لائنز محض خالی راستے نہیں بلکہ جنگلات کے لیے حفاظتی حصار کا کردار ادا کریں گی۔ جنگل میں آگ لگنے کی صورت میں یہ پٹیاں شعلوں کو ایک حصے سے دوسرے حصے تک منتقل ہونے سے روکنے میں مدد دیں گی۔ اس کے علاوہ ریسکیو اور آگ بجھانے والی ٹیموں کو دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک پہنچنے اور کارروائی کرنے کے لیے بھی راستہ فراہم کریں گی۔
محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ جنگلات میں آتشزدگی کے اثرات صرف درختوں کے جلنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے جنگلی حیات، قدرتی نباتات، ماحولیات اور پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی ممکنہ حادثے کے رونما ہونے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں جنگلات کا تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اولین ترجیح ہے، سیکریٹری جنگلات
حکام کے مطابق جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے فائر لائنز کی تعمیر سمیت دیگر حفاظتی اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے۔










