برطانیہ: ریڈیولوجسٹس کی 28 فیصد کمی، کینسر کے مریضوں کو بروقت تشخیص میں مشکلات

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے علاقے ویلز میں ریڈیولوجسٹس کی شدید کمی کے باعث کینسر کے مریضوں نے خبردار کیا ہے کہ طبی اسکینز میں تاخیر ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کے مطابق ویلز کے نیشنل ہیلتھ سروس کو مطلوبہ تعداد کے مقابلے میں 88 ریڈیولوجسٹس کی کمی کا سامنا ہے، جو مجموعی ضرورت کا 28 فیصد بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے بادشاہ چارلس کو کینسر کی تشخیص

اس کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمالی اور مغربی ویلز شامل ہیں، رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کی 2025 کی افرادی قوت سے متعلق رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں کنسلٹنٹ ریڈیولوجسٹس کی 42 فیصد کمی ہے، جبکہ جنوبی ویلز میں یہ شرح 22 فیصد ہے۔

شمالی ویلز کے علاقے میں خدمات فراہم کرنے والے بیٹسی کیڈوالاڈر یونیورسٹی ہیلتھ بورڈ نے بتایا ہے کہ عملے کی بھرتی کا عمل جاری ہے اور اسکینز کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باوجود رپورٹس کی فراہمی میں لگنے والا وقت کم ہوا ہے۔

ہیلتھ بورڈ کی ایگزیکٹو میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈے نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ عملے کی کمی سے متعلق اعداد و شمار مریضوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم ادارہ ریڈیولوجی اور آنکولوجی دونوں شعبوں میں فعال طور پر بھرتیاں کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محفوظ طبی خدمات برقرار رکھنے، مریضوں کی طبی ضرورت کے مطابق ترجیحات طے کرنے اور شمالی ویلز کے عوام کو معیاری کینسرعلاج فراہم کرنے کے لیے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: چہرے کی ایک تصویر سے کینسر کے مریضوں کی بقا کا اندازہ لگانا ممکن ہے؟

ڈاکٹر ڈے کے مطابق امیجنگ سروسز کی طلب میں تیزی سے اضافے کے باوجود اپریل سے ایک نجی تھرڈ پارٹی سروس فراہم کرنے والے ادارے کی خدمات حاصل کرنے کے باعث اسکینز اور ان کے نتائج کے انتظار کا دورانیہ کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

دوسری جانب سوانزی میں کنسلٹنٹ آنکولوجسٹ اور رائل کالج آف ریڈیولوجسٹس کی ویلش کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اوون نکولس نے کہا کہ مریضوں کو علاج کے نتائج سے آگاہ کرنے میں تاخیر ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

مزید پڑھیں: کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ڈاکٹر کے سامنے ایسا مریض بیٹھا ہوتا ہے جو شدید بے چینی کے ساتھ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا اس کا علاج کامیاب رہا ہے یا کینسر دوبارہ لوٹ آیا ہے۔

ڈاکٹر اوون نکولس کے مطابق ایسی صورت حال میں ڈاکٹر کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ معذرت، انہیں ابھی معلوم نہیں کیونکہ اسکین کی رپورٹ دستیاب نہیں، یا پھر رپورٹ موصول نہ ہونے کی وجہ سے مریض کی طے شدہ ملاقات ہی منسوخ کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے اس صورت حال کو مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا