فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کے فوڈ سبسڈی پروگرام سے اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد ٹوکن استعمال کرکے مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ ایک خاندان کے اوسطاً 5 افراد کے حساب سے تقریباً ساڑھے 7 کروڑ شہریوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس پروگرام پر اب تک 28 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں اور یہ دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج کو بھی حتمی شکل دینے کا اعلان کیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فوڈ سبسڈی پروگرام کامیابی اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے اور متعلقہ ادارے اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم نے پیٹرول پمپس پر بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ایسے پیٹرول پمپس کو صرف بند نہیں کیا جائے گا بلکہ بھاری جرمانے بھی کیے جائیں گے تاکہ دوسروں کے لیے مثال قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے سرگرم مافیا کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب شفافیت کے ساتھ کام کیا جائے گا۔

ایل پی جی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کی درآمد سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی، جبکہ مقامی ایل پی جی کی فروخت سے حاصل ہونے والا منافع حکومت کے خزانے میں آئے گا۔ اس رقم کو عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے طریقۂ کار تیار کرلیا گیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی اور سیکیورٹی پیکیج گزشتہ روز حتمی شکل دے دیا گیا ہے۔ صوبے میں سیکیورٹی حکومت کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے اور صوبائی و وفاقی حکومت کے تعاون سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے جہاں کے بہادر عوام کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی دہشتگردی کا مسئلہ درپیش ہے، تاہم پوری قوم کی دعاؤں اور سیکیورٹی اداروں کی کوششوں سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔

خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی کشیدگی اور عدم استحکام کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3-2 ہفتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر اہم کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے دورے کیے، جبکہ ترکیہ کے نمائندے ابراہیم قالن کی تہران میں بھی مثبت بات چیت ہوئی۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ساتھ سہ فریقی تعاون کو آگے بڑھانا بھی ہے۔

وزیراعظم نے سردیوں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے کہا کہ حکومت ایل این جی، ایل پی جی اور توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل اجلاس اور مشاورت کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گی تاکہ بجلی گھروں اور صنعتی کارخانوں کو ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ بھی کم سے کم رکھا جاسکے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ جمعے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے ذمہ داری کے ساتھ کام کیا اور عام آدمی پر اضافی بوجھ کم کرنے کی کوشش کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا