ایران جنگ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو لے بیٹھی، امریکی انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ جنگ بنی، مسعود خان

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب، سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو دونوں کو لے بیٹھی ہے اور امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں امریکی عوام پر پڑنے والا معاشی بوجھ ہے۔

وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں مسعود خان نے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج غیر متوقع نہیں تھے بلکہ مختلف سرویز اور رائے عامہ کے جائزوں سے پہلے ہی اس کا اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ امریکا میں نوجوانوں سمیت مختلف عمر کے لوگوں کی بڑی تعداد کا خیال تھا کہ ایران پر حملہ ضروری نہیں تھا، اس سے امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا اور ملک کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ نے بھی شدید ردعمل پیدا کیا۔ انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو پیٹرول پمپس اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا، کیونکہ جنگ کے معاشی اثرات براہ راست عام امریکی شہریوں تک پہنچے۔

’ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک آ سکتی ہے، کامیابی مشکل ہے‘

مسعود خان نے کہا کہ ڈیموکریٹس اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کے خلاف دو مرتبہ مواخذے کی کوشش کر چکے ہیں، تاہم دونوں ناکام رہیں۔ اس مرتبہ بھی مواخذے کی تحریک پیش کیے جانے کا امکان ہے اور آنے والے اسپیکر نے بھی اس حوالے سے کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

ان کے مطابق مواخذے کے معاملے پر کانگریس میں سماعتیں ہوسکتی ہیں اور گواہوں کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس مرتبہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے دوران کمائی گئی رقم اور ان کے خلاف پہلے سے موجود بعض الزامات کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کامیابی بظاہر ممکن نظر نہیں آتی، کیونکہ کانگریس میں اس نوعیت کی کارروائی ایک سے دو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لے سکتی ہے۔ اس وقت تک ان کی مدت صدارت ختم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مواخذے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہونے کے باوجود یہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ ایوان نمائندگان کے حتمی نتائج اور وہاں ڈیموکریٹس کی پوزیشن واضح ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے مزید اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

’ایران پر دوبارہ حملے اور خطے میں جنگ کے خدشات برقرار‘

سابق سفیر نے کہا کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔ آج بھی ایران اور مشرق وسطیٰ سمیت پوری بین الاقوامی برادری پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

مسعود خان کے مطابق ایران پر حملے کی صورت میں خلیجی ریاستیں بھی اس کی جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتی ہیں۔ امریکی سینٹ کام، پینٹاگون اور اسرائیلی فوج کے پاس مختلف ممکنہ حالات سے نمٹنے کے منصوبے موجود ہیں، جن میں انتخابی نتائج اور کانگریس میں ریپبلکنز کی پوزیشن کے مطابق حکمت عملی بھی شامل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور لب و لہجے سے ان پر اعتماد کرنا مشکل نظر آتا ہے، تاہم جنگ کے امکان کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئندہ تین چار دن میں صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔

مسعود خان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس وقت اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر وہ اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو ان کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت سے اسرائیل میں قومی حکومت بنانے کی کوشش بھی ممکن ہے، جس میں نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین کو ان کے لیکوڈ بلاک کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف امریکا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال میں یہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کہ جنگ کا خطرہ ختم ہو چکا ہے۔

’نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیے آمادہ کیا‘

مسعود خان نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، تاہم نیتن یاہو کے لیے یہ ایک وجودی مسئلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، حالانکہ اس وقت امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے اور مذاکرات میں پیش رفت ہو چکی تھی۔

ان کے مطابق نیتن یاہو نے اس معاہدے کے امکانات ختم کرنے کے لیے یکطرفہ حملہ کیا اور بعد میں صدر ٹرمپ کو بھی ایران پر حملے کے لیے آمادہ کر لیا۔ اس دوران ایران کی نطنز، فردو اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سابق سفیر کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ بھی نیتن یاہو چاہتے تھے کہ ایران پر حملہ کیا جائے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر قائل کیا کہ دونوں ممالک مل کر کارروائی کریں تو 24 گھنٹوں کے اندر ایرانی قیادت کا صفایا کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکا و اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات، میزائلوں اور اس کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تاہم ان کے مطابق یہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے بلکہ جنگ سے پہلے موجود نہ ہونے والے نئے مسائل پیدا ہوگئے، جن میں آبنائے ہرمز، سپلائی چینز اور باب المندب کی صورتحال شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اٹلی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوئے۔

’اسرائیل کے لیے امریکا کو جنگ کی قیمت ادا کرنا پڑی‘

مسعود خان نے کہا کہ امریکا میں ایران جنگ کے خلاف ردعمل صرف معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر نظریاتی بھی تھا۔

ان کے مطابق امریکی عوام میں یہ سوال اٹھا کہ اسرائیل جیسا نسبتاً چھوٹا ملک، جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے، دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا کو بار بار مشرق وسطیٰ کی جنگ میں کیوں دھکیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو اس جنگ کی سیاسی، معاشی اور سفارتی قیمت ادا کرنا پڑی، جس کا اثر حالیہ انتخابی نتائج میں بھی نظر آیا۔

’پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے‘

پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے سابق سفیر نے کہا کہ پاکستان کا کردار انتہائی تعمیری رہا ہے اور اس نے امریکا کے لیے کئی مشکلات آسان کی ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا، اس کے بعد امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو اسلام آباد میں ایک دوسرے کے سامنے بٹھایا اور مفاہمتی یادداشت کی تکمیل کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک امید اور سکون کی کیفیت پیدا ہوئی تھی، تاہم بعد میں دونوں جانب کی سخت گیر قوتوں نے ان کوششوں کو سبوتاژ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی کردار اب بھی جاری ہے۔ پاکستان، قطر اور عمان مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے سات نکاتی اور سات روزہ فارمولے پر پیش رفت ہو، جس میں آبنائے ہرمز کھولنا، بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور جوہری مذاکرات کا باضابطہ دوبارہ آغاز شامل ہے۔

مسعود خان کے مطابق پاکستان کا یہ کردار مستقبل میں بھی برقرار رہ سکتا ہے، تاہم امریکی انتخابات کے بعد صدر ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن اور ان کی اپنی جماعت کے اندر پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان امریکا تعلقات پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ کو ایران جنگ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، جبکہ مارکو روبیو بھی اس معاملے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ تھے۔ اس کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس نے نسبتاً معتدل رویہ اختیار کیا ہے اور تہران کو مذاکرات کی طرف آنے کے لیے ایک خط بھی بھیجا ہے، جس پر بات چیت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں ابھی کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

’ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان گہرے مراسم‘

سابق سفیر نے کہا کہ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گہرے مراسم ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جس انداز اور تواتر سے پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان بلکہ اس کی قیادت کا بھی نام لے کر ذکر کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے پاکستان کی اتنی مرتبہ تعریف کی کہ لوگوں نے اس کا شمار بھی شروع کر دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو واشنگٹن میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے روایتی لابنگ فرموں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

بھارت کی دفاعی ساکھ کو نقصان پہنچا، امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان؟

مسعود خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی بارہا تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارتی طیارے گرائے جانے کا بار بار ذکر کیا۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابتدا میں بھارتی طیاروں کی تعداد 6 بتائی، جو بعد میں بڑھتے بڑھتے 10 سے 11 تک پہنچ گئی۔ اس سے بھارت کی بین الاقوامی سطح پر رسوائی ہوئی اور بالخصوص اس کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے سوالات اٹھے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بھارت نواز قوتیں اب بھی موجود ہیں، جو دونوں ممالک کو دوبارہ قریب لانے کی کوشش کریں گی۔ بھارت کی لابی بھی واشنگٹن میں مضبوط ہے اور کانگریس میں اس کا اثرورسوخ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ 2 برس تک امریکی پالیسی بنیادی طور پر صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں رہے گی، اگرچہ کانگریس کا بھی اپنا کردار ہوگا۔ پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی جگہ بنائی ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیش رفت کو جلد از جلد ادارہ جاتی شکل دی جائے۔

’امریکہ کے ساتھ خیرسگالی کو ٹھوس معاشی تعاون میں بدلنے کی ضرورت‘

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کو صدر ٹرمپ کے ساتھ موجودہ خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ امریکی صدر کے ساتھ پاکستان کے پاس تقریباً 2 سال کا وقت ہے۔

ان کے مطابق اس دوران کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات، متبادل توانائی، زراعت، صنعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں امریکا کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جامعات کے ساتھ تعلیمی تعاون اور پاکستانی طلبہ کے لیے مواقع پیدا کرنے پر بھی کام ہونا چاہیے۔ موجودہ سیاسی قربت کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

’افغانستان سے دہشتگردی کے معاملے پر امریکا کا پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرنا مثبت پیش رفت ہے‘

افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مسعود خان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا پاکستان کی طرف رویہ تعمیری ہے اور انہوں نے افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت میں دو بیانات دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشتگردی کے شعبے میں بھی تعاون اور مذاکرات جاری ہیں۔

ان کے مطابق مارکو روبیو نے گزشتہ سال ایک اہم بیان میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو وسیع البنیاد اور کسی تیسرے ملک کے تعلقات سے غیر مشروط قرار دیا تھا۔ یہ اہم سفارتی اصطلاحات ہیں، جن کا مطلب ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں اس کے برعکس انداز اختیار کیا جاتا تھا اور پاکستان کو یہ باور کرایا جاتا تھا کہ امریکا کے بھارت کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور پاکستان کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

’افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے اہم ہوسکتا ہے‘

مسعود خان نے کہا کہ امریکا زبانی طور پر پاکستان کے انسداد دہشتگردی کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے، لیکن افغانستان میں چھوڑے گئے جدید امریکی ہتھیاروں کا مسئلہ بھی اہم ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج جو جدید اسلحہ چھوڑ گئی تھی، اس کی مالیت تقریباً ساڑھے تین سے ساڑھے سات ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس میں سنائپر رائفلز، اسالٹ رائفلز، لائٹ مشین گنز، راکٹ لانچرز اور جدید ترین مواصلاتی آلات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی اس نوعیت کے چھوٹے ہتھیار اور جدید آلات فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ وہ دہشتگردی کے خلاف غیر روایتی جنگ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پاکستان کے خلاف روایتی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ اپنے پراکسیز کے ذریعے حملے کروا رہے ہیں، جنہیں ان کے بقول بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو بھی اسی نوعیت کی جنگی صلاحیتوں اور جدید آلات کی ضرورت ہے۔

’امریکی انتخابات کے بعد پاکستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے‘

مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور حکومت میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں مختلف ممکنہ منظرناموں پر غور اور وار گیمز ضرور ہوتی ہوں گی، تاہم اس مرحلے پر ریپبلکنز اور صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کمزور کرنا قبل از وقت ہوگا۔

ان کے مطابق پاکستان کو کانگریس میں موجود ریپبلکن ارکان کے ساتھ بھی اپنے روابط مضبوط رکھنے چاہییں۔ پاکستانی سفیر اور پاکستان سے امریکا جانے والے وزرا کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ارکان سے مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ جن لوگوں کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات اور قربت رہی ہے، صرف ان کے انتخابی شکست سے دوچار ہونے پر پاکستان اپنا رویہ یا پالیسی تبدیل کرنا شروع کر دے۔ ایسا کرنے سے امریکا میں پاکستان کے خلاف ردعمل بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

’ٹرمپ کی انتخابی مہم نے ریپبلکن امیدواروں کو بھی نقصان پہنچایا‘

سابق سفیر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے لیے انتخابی نتائج دراصل نوشتہ دیوار تھے۔ وہ مسلسل اپنی مقبولیت کا دعویٰ کرتے رہے اور ان کا انداز ایسا تھا جیسے انتخابی مقابلے میں صرف وہ خود حصہ لے رہے ہوں، نہ کہ کانگریس کے ارکان اور سینیٹرز بھی انتخابات لڑ رہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حد سے زیادہ انتخابی مہم میں شرکت کا الٹا اثر ہوا۔ بعض حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کے حامیوں نے قیادت سے کہا کہ صدر ٹرمپ کو ان کے انتخابی حلقوں میں نہ لایا جائے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ صدر ٹرمپ کی آمد سے امیدواروں کے ووٹ کم ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ وہ ہر جگہ جا کر انتخابی جلسوں سے خطاب کریں، لیکن بعض ریپبلکن امیدواروں کے لیے ان کی موجودگی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بننے کا خدشہ بن گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا