خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی سڑکوں پر سفر شہریوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں، کیونکہ شہر کے 40 ہزار مین ہولز میں سے تقریباً 11 ہزار کے ڈھکن غائب ہیں۔ کھلے مین ہولز نہ صرف پیدل چلنے والوں بلکہ موٹرسائیکل سواروں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے لیے بھی حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔ بارش کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے، جبکہ رات کے وقت اسٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہے۔
پشاور کے علاقے سکندرپورہ میں کھلے مین ہول کے قریب موجود شہری عاصم نے بتایا کہ یہ گٹر کئی روز سے کھلا پڑا ہے اور شہریوں کے لیے موت کا پھندا بن چکا ہے۔
ان کے مطابق رات کے وقت روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث موٹرسائیکل اور رکشہ سوار اکثر حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
شہری شہزاد کے مطابق پشاور میں کھلے مین ہولز کا مسئلہ کئی برسوں سے برقرار ہے۔ مین ہولز کی مرمت کے باوجود کچھ ہی عرصے بعد ان کے ڈھکن دوبارہ ٹوٹ جاتے ہیں، خصوصاً بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بارش کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے کھلے مین ہولز دکھائی نہیں دیتے، جس کے باعث حادثات معمول بن چکے ہیں۔ چند روز قبل بھی ایک موٹرسائیکل سوار کھلے مین ہول میں گرنے سے سینے پر شدید چوٹیں کھا چکا ہے۔
شہری محمد تنویر کے مطابق پشاور میں ہزاروں مین ہولز ڈھکنوں سے محروم ہیں۔ کلمہ چوک کے اطراف ہاسٹلز اور تعلیمی ادارے واقع ہیں، جہاں سے طالبات، بچے اور دیگر شہری گزرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شام کے بعد اسٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی کے باعث علاقے میں اندھیرا چھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کھلے مین ہولز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
شہری محمد رسول نے بھی کھلے مین ہولز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈھکن نہ ہونے کے باعث متعدد حادثات پیش آچکے ہیں، جن میں شہریوں کے ہاتھ پاؤں تک ٹوٹ چکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتیں بدلتی رہیں، لیکن شہری اس بنیادی مسئلے سے آج تک نجات حاصل نہیں کرسکے۔
ملازمت پیشہ خاتون ناہید اختر نے بتایا کہ انہیں کام کے سلسلے میں روزانہ پشاور کی مختلف سڑکوں سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں وہ اکثر اسکول کے بچوں، خواتین اور موٹرسائیکل سواروں کو کھلے مین ہولز کے باعث حادثات کا شکار ہوتے دیکھتی ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام کھلے مین ہولز کو فوری طور پر ڈھکنے کے اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کی کارکردگی سے متعلق اجلاس میں شہر کے 11 ہزار کھلے مین ہولز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ گورنر نے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں کا خود دورہ کرکے شہری مسائل کا جائزہ لینے کا اعلان بھی کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) شہر کی 42 یونین کونسلوں میں صفائی کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ادارہ روزانہ تقریباً 58 ہزار گھروں سے 500 ٹن کوڑا کرکٹ جمع کرکے شمشتو ڈمپنگ سائٹ منتقل کرتا ہے۔
’کمپنی کے پاس 4 ہزار 52 اہلکار اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے 474 گاڑیاں موجود ہیں۔ صفائی کے عملے کو 3 شفٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ تعلیمی اداروں اور مساجد کے ذریعے شہریوں میں صفائی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔‘
مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے بھی تسلیم کیا کہ پشاور کے بعض علاقوں میں مین ہولز کے ڈھکنوں اور کوڑا دانوں کی کمی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کی کارکردگی پر تحفظات پائے جاتے تھے، تاہم اب صفائی کا عملہ رات گئے تک خدمات انجام دے رہا ہے، جس سے ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
ڈبلیو ایس ایس پی کی چیف ایگزیکٹیو مس وزیر نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ پشاور میں اس وقت تقریباً 40 ہزار مین ہولز ہیں، جن میں سے 11 ہزار ڈھکنوں سے محروم ہیں۔
ان کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک اسکیم میں 12 سے 13 ہزار مین ہولز کی مرمت کا منصوبہ شامل ہے، تاہم ادارے کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے اور فنڈز ملتے ہی مرمت کا کام شروع کردیا جائے گا۔ تاہم زیادہ رش والے مقامات پر فوری مرمت کے لیے ادارے کے رضاکاروں کو بھی متحرک کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شہر میں 11 ہزار مین ہولز ڈھکنوں سے محروم ہیں تو کیا انتظامیہ کسی بڑے حادثے کی منتظر ہے؟ کیا فنڈز کی کمی شہریوں کی جانوں کے تحفظ میں رکاوٹ بنی رہے گی، یا متعلقہ ادارے اور صوبائی حکومت مل کر اس سنگین مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کریں گے؟










