ملک مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.31 فیصد ہوگئی، ایل پی جی اور ٹماٹر کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 12.31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ ایل پی جی اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 54.18 فیصد جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 3.72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 114.88 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) کی بنیاد پر قلیل مدتی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 12.31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں جمع کرتا ہے، جن کی بنیاد پر ہر ہفتے حساس قیمت اشاریہ مرتب کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے قلیل مدتی مہنگائی کی شرح مسلسل دوہرے ہندسوں میں برقرار ہے، جس کی بڑی وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ رہا ہے۔

تاہم گزشتہ 3 روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی آ رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ جائزے میں سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب ایل پی جی کی قیمت میں غیر معمولی اضافے نے قلیل مدتی مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 ضروری اشیا میں سے 21 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو مجموعی اشیا کا 41.18 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن کا تناسب 19.60 فیصد رہا، جبکہ 20 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں، جو مجموعی تعداد کا 39.22 فیصد ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر حساس قیمت اشاریے میں 0.29 فیصد اضافہ ہوا، جو غذائی اور غیر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں کمی پر آمادہ نہیں اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں بلکہ اشیا اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں بھی بالواسطہ اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ صورتحال لاگت میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والی مہنگائی کی مثال ہے، جس میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اشیائے خورونوش کو بھی مہنگا کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔

ایک ہفتے میں کن اشیا کی قیمتیں بڑھیں؟

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54.18 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 3.72 فیصد، آلو 2.07 فیصد، انڈے 1.17 فیصد، لہسن 1.06 فیصد اور جلانے کی لکڑی 1.01 فیصد مہنگی ہوئی۔

اسی طرح پسا ہوا نمک 0.91 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.64 فیصد، تازہ دودھ 0.49 فیصد، دہی 0.41 فیصد، ماچس 0.16 فیصد اور شرٹنگ کا کپڑا 0.15 فیصد مہنگا ہوا۔

ہفتہ وار بنیادوں پر کون سی اشیا سستی ہوئیں؟

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 4.20 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 2.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح چنے کی دال 1.08 فیصد، کیلے 0.85 فیصد، پیاز 0.82 فیصد، خشک دودھ 0.73 فیصد، مرغی کا گوشت 0.61 فیصد، چینی 0.40 فیصد، گندم کا آٹا 0.34 فیصد اور مونگ کی دال 0.27 فیصد سستی ہوئی۔

سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی 114.88 فیصد مہنگی

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں سب سے زیادہ 114.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹماٹر 78.89 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی 52.38 فیصد مہنگی ہوئی۔

سالانہ بنیادوں پر ڈیزل کی قیمت میں 39.27 فیصد، پیٹرول 36.34 فیصد، گندم کا آٹا 33.95 فیصد، مرغی کا گوشت 31.81 فیصد اور پسی ہوئی مرچ کی قیمت میں 15.55 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی طرح بکرے کا گوشت 14.54 فیصد، پیاز 13.64 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 12.35 فیصد اور گائے کا گوشت 11.06 فیصد مہنگا ہوا۔

سالانہ بنیادوں پر کن اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں؟

ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 37.24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈے 27.59 فیصد اور چینی 25.03 فیصد سستی ہوئی۔

اسی طرح پسا ہوا نمک 14.09 فیصد، گڑ 7.75 فیصد، مسور کی دال 7.49 فیصد، مونگ کی دال 6.79 فیصد اور اری 6/9 چاول کی قیمت میں 1.79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

واضح رہے کہ اس سے گزشتہ ہفتے قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 11.32 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جس کی بنیادی وجوہات ایل پی جی، گندم کے آٹے اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ تھیں۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح گزشتہ ہفتے کے 11.32 فیصد سے بڑھ کر 12.31 فیصد ہوگئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp