محکمہ صحت پنجاب نے صوبے میں تھیلیسیمیا کی ادویات کی قلت سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز (IBTS) میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے مخصوص دوا آئرن چیلیٹنگ ایجنٹ دستیاب ہے۔
ترجمان محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب تھیلیسیمیا اینڈ دیگر جینیاتی امراض کی روک تھام اور تحقیق کے ادارے (PTGD) کے صوبے بھر میں 9 علاقائی مراکز قائم ہیں، جو پنجاب کے تمام اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ادارے کا بنیادی مقصد اسکریننگ، قبل از پیدائش تشخیص (Prenatal Diagnosis)، جینیاتی مشاورت اور آگاہی کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 15 سال کے دوران PTGD نے مجموعی طور پر 5 لاکھ 11 ہزار 782 افراد کی اسکریننگ کی، جن میں سے 4 ہزار 949 افراد میں تھیلیسیمیا میجر کی تشخیص ہوئی۔ اس کے علاوہ قبل از پیدائش کی گئی 12 ہزار 949 اسکریننگز کے نتیجے میں 3 ہزار 296 بچوں میں تھیلیسیمیا میجر کی تشخیص ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے تشخیص شدہ مریضوں کو علاج کے لیے خون کی منتقلی (Blood Transfusion) کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز (IBTS) میں ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تھیلیسیمیا فاؤنڈیشن، علیم ڈار فاؤنڈیشن اور سندس فاؤنڈیشن کے بھی بڑے تھیلیسیمیا مراکز قائم ہیں، جہاں مریضوں کو خون کی منتقلی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق یکم جنوری 2026 سے اب تک لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز میں رجسٹرڈ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو مجموعی طور پر 3 ہزار 328 مرتبہ خون کی منتقلی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔
اسی طرح IBTS لاہور میں اب تک تھیلیسیمیا کے مریضوں کو مخصوص دوا آئرن چیلیٹنگ ایجنٹس کی مجموعی طور پر 52 ہزار 52 خوراکیں فراہم کی جا چکی ہیں۔
ترجمان محکمہ صحت نے واضح کیا کہ تھیلیسیمیا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا آئرن چیلیٹنگ ایجنٹ انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز میں دستیاب ہے۔











