پشاور میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کے قتل کیس میں اہم پیشرفت، 2 مشتبہ ملزمان کی شناخت

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور کے علاقے حیات آباد میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کے دن دہاڑے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے واردات میں مبینہ طور پر ملوث 2 مشتبہ افراد کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ان کا ڈیٹا اور سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجہ پرانی خاندانی دشمنی سامنے آئی ہے، جبکہ واقعے میں دہشتگردی کے شواہد نہیں ملے۔ قتل کے اصل محرکات جاننے اور ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق قتل کا واقعہ تھانہ حیات آباد کی حدود میں فیز فائیو میں واقع نادرا دفتر کے عقب میں پارکنگ ایریا میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد خان کو قتل کردیا۔ مقتول شاروم خان کے صاحبزادے اور کافور ڈھیری کے رہائشی تھے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جہاں سے 30 بور پستول کے 8 خالی خول برآمد کیے گئے، جبکہ مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ اور اس کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد 2 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی۔ پولیس نے دونوں افراد کا ڈیٹا اور سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

مقتول فہد خان سابق وفاقی وزیر نور عالم خان کے بھانجے، سابق تحصیل چیئرمین متھرا مرحوم فرید اللہ خان کے بھتیجے اور کافور ڈھیری کے شاروم خان کے صاحبزادے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق قتل کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی بھی مشتبہ ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp