لاہور میں اسموگ کی وجوہات میں ایک بڑا عنصر دوسرے علاقوں سے آنے والا دھواں بھی ہے، جب کہ شہر میں زیر تعمیر عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے باعث اڑنے والی گردوغبار بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
حکام کے مطابق لاہور میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اب تک 100 سے زائد مقامات پر آگ بجھانے کی کارروائیاں کرچکی ہیں۔ سوئس ادارے کی 3 روز قبل جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2025 گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد بہتر رہا، یعنی فضائی آلودگی کی صورت حال گزشتہ برس جتنی خراب نہیں تھی۔
اسموگ پر قابو پانے کے لیے لاہور بھر میں اینٹی اسموگ گنز چلائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشینیں فضا میں موجود پی ایم 10 ذرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس وقت لاہور میں 12 اینٹی اسموگ گنز کام کر رہی ہیں، جن کی تعداد بڑھا کر 20 کی جائے گی۔ فیصل آباد میں 2 اور گوجرانوالہ میں ایک مشین پہلے ہی نصب کی جا چکی ہے، جب کہ مزید 4 شہروں میں یہ مشینیں پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے 30 نئی اینٹی اسموگ گنز بھی آنے والے دنوں میں مختلف شہروں میں نصب کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق رات کے وقت درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث فضائی آلودگی کے ذرات زمین کے قریب جمع ہوجاتے ہیں۔ ان ذرات کو کم کرنے کے لیے فضا میں پانی کی پھوار چھوڑی جاتی ہے، جس کا دائرہ 100 میٹر سے زیادہ ہے۔ پانی کے باریک قطروں کے ساتھ آلودگی کے ذرات بھی نیچے آجاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر کے دوران لاہور میں موسم نسبتاً صاف رہا اور آسمان پر نیلاہٹ اور دھوپ برقرار رہی۔
اینٹی اسموگ گنز میں استعمال ہونے والے پانی کے معیار سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے واسا، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی اور ریسکیو 1122 کے ہائیڈرنٹس سے پانی حاصل کیا جاتا ہے۔ پانی کو باقاعدگی سے لیبارٹری میں بھی جانچا جاتا ہے۔ ان کے مطابق مشینوں کی نوزلز انتہائی باریک ہوتی ہیں، اس لیے گندا یا مٹی والا پانی استعمال کرنا ممکن نہیں۔
حکام نے تسلیم کیا کہ لاہور اور اس کے گردونواح میں سڑکوں کی تعمیر اور جاری ترقیاتی منصوبے بھی فضائی آلودگی کا سبب بنتے ہیں، تاہم شہر میں اسموگ کے باعث لاک ڈاؤن لگانے کی نہ تو فی الحال کوئی صورت حال ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔










