سابق امریکی معروف سفارتکار ریان کروکر کہتے ہیں کہ ـ’دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کا کنٹرول صدر ٹرمپ پر غیر معمولی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، خصوصاً بجٹ کے ذریعے۔ ایران جنگ کے لیے پینٹاگون کی اضافی فنڈنگ کی درخواست ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کر رہی ہے‘۔
فارن پالیسی اشاعتی ادارے کے کالم نگار سٹیون اےکُک کہتے ہیں کہ ’اگر نیتن یاہو اقتدار سے ہٹ بھی جاتے ہیں تو غزہ، مغربی کنارے اور 2 ریاستی حل جیسے معاملات پر ان کی جگہ آنے والے سیاسی اتحاد کا مؤقف موجودہ حکومت سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل کے اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کی اور ان کی ترجیحات میں زیادہ تر اسرائیل کے داخلی سیاسی نظام کی اصلاح، فوجی سروس اور قومی سلامتی شامل ہیں‘‘۔
کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ محقق ایرک لوب کہتے ہیں کہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں نئی حکومت بھی ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کر سکتی ہے۔ نئی قیادت کے آنے سے ایران کے ساتھ دوبارہ فوجی محاذ آرائی کا امکان ختم نہیں ہوگا۔ان کے مطابق آئزن کوٹ امریکی قیادت میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سفارتی حل کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے۔
ان تینوں ماہرین کی رائے سے اگر یہ اخذ کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ یا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کے حوالے سے مزاحمت کا سامنا کریں گے لیکن دوسری طرف اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کا جانا ابھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو جائے گا۔
2 الیکشنز کس طرح سے دُنیا کی سیاست پر اثرانداز ہو سکتے ہیں
دنیا کی سیاست میں 2 اہم انتخابی نتائج نے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنا پارلیمانی اکثریتی اتحاد برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ بظاہر یہ دونوں واقعات الگ الگ ملکوں کے داخلی سیاسی معاملات ہیں، تاہم ان کے اثرات عالمی سیاست اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرتب ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
ان نتائج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل گزشتہ کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور سلامتی کے معاملات میں ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ اب دونوں ملکوں میں سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں اس اتحاد کی نوعیت، ترجیحات اور مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی انتخابی شکست اور امریکی خارجہ پالیسی پر دباؤ
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی دونوں ایوانوں میں کامیابی کو صدر ٹرمپ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مہنگائی، عوام پر بڑھتے معاشی دباؤ، ایران کے ساتھ جنگ اور خارجہ پالیسی کے بعض فیصلے انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اب کانگریس میں صدر ٹرمپ کو اپنی قانون سازی اور انتظامی ترجیحات کے حوالے سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹرمپ فوری طور پر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ امریکی آئین کے تحت صدر کو خارجہ امور اور فوجی کارروائیوں کے حوالے سے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ڈیموکریٹس کانگریس میں بجٹ، دفاعی اخراجات، اسلحے کی فروخت، سفارتی تقرریوں اور حکومتی نگرانی کے ذریعے صدر پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں، لیکن صدارتی ویٹو اور انتظامی اختیارات ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
سب سے اہم سوال کیا امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی جاری رکھ پائے گا؟
ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں، ان کے اخراجات اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر کانگریس میں زیادہ سخت سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اگر جنگ کے معاشی اثرات امریکی عوام تک مزید شدت سے پہنچتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے فوجی کارروائیوں کا جواز پیش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہ امکان بھی موجود ہے کہ داخلی سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے صدر زیادہ سخت مؤقف اختیار کریں۔ اس لیے امریکی انتخابی نتائج کو ایران کے ساتھ فوری امن کی ضمانت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اسرائیل میں نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل اور نئی قیادت کے امکانات
اسرائیل میں انتخابی نتائج نے بھی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 27 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، لیکن ان کے حامی سیاسی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (پارلیمنٹ) میں صرف 53 نشستیں مل سکیں، جبکہ ان کے مخالف یہودی جماعتوں کے اتحاد کو 48 نشستیں حاصل ہوئیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ یوں کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ عرب جماعتوں نے نیتن یاہو کے مخالف اُمیدوار کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں حکومت بنانے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، لیکن ان کے لیے بھی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ نیتن یاہو کو انتخابی دھچکا ضرور لگا ہے، لیکن ان کی وزارتِ عظمیٰ کا فوری خاتمہ یقینی نہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل، اتحادی جماعتوں کے مذاکرات اور ممکنہ سیاسی سمجھوتے اسرائیل کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
انتخابی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں نیتن یاہو کے مخالفین کو نئی سیاسی گنجائش ملی ہے، تاہم اس سے اسرائیل کی بنیادی سلامتی اور دفاعی پالیسی میں فوری تبدیلی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
غزہ اور فلسطین: کیا امریکی پالیسی میں تبدیلی آئے گی؟
امریکا میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سب سے زیادہ توجہ فلسطین اور غزہ کے معاملے پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کو غیر مشروط فوجی امداد فراہم کرنے کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے اور پارٹی کے بعض ترقی پسند رہنما اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور مغربی کنارے میں آبادکاری کی پالیسی پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
نئی کانگریس اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد، ہتھیاروں کی فروخت اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے امریکی کردار کا زیادہ باریک بینی سے جائزہ لے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی ریاست کے قیام، فلسطینی اتھارٹی کی مضبوطی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے خلاف اقدامات کے لیے بھی کانگریس میں آواز زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
تاہم یہ قبل از وقت ہوگا کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکا فوری طور پر اسرائیل کی حمایت ختم کر دے گا۔ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی، انٹیلیجنس اور اسٹریٹجک تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اسے محض ایک انتخابی نتیجے کی بنیاد پر تبدیل کرنا آسان نہیں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اسرائیل کو امریکی حمایت جاری رہنے کے باوجود اس کے استعمال، شرائط اور سیاسی قیمت کے حوالے سے زیادہ سخت نگرانی کا سامنا کرنا پڑے۔
اگر اسرائیل میں نیتن یاہو کی جگہ کوئی نسبتاً مختلف سیاسی قیادت آتی ہے تو غزہ میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، تعمیر نو اور فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر نئی سفارتی کوششوں کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اس تبدیلی کا انحصار نئی اسرائیلی حکومت کے سیاسی اتحاد اور اس کی پالیسی ترجیحات پر ہوگا۔
ایران اور خلیجی ممالک کے لیے کیا بدلے گا؟
امریکا اور اسرائیل میں سیاسی تبدیلی کے اثرات ایران کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی اب تک زیادہ دباؤ، پابندیوں اور فوجی طاقت کے استعمال کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ڈیموکریٹک کانگریس اس پالیسی کے اخراجات، نتائج اور علاقائی اثرات پر سوال اٹھا سکتی ہے۔ اس سے سفارتی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے امکانات کو تقویت مل سکتی ہے، اگرچہ اس کا انحصار ایران اور امریکی انتظامیہ دونوں کے فیصلوں پر ہوگا۔
خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے۔ اگر واشنگٹن میں اسرائیل سے متعلق پالیسی پر زیادہ دباؤ پیدا ہوتا ہے اور اسرائیل میں نئی حکومت فلسطینی مسئلے پر مختلف مؤقف اختیار کرتی ہے تو عرب ممالک کے لیے علاقائی سفارتکاری میں نئی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم تعلقات کی بحالی کا عمل اب بھی فلسطینی مسئلے، سلامتی کی ضمانتوں اور علاقائی طاقتوں کے مفادات سے جڑا رہے گا۔
لبنان، شام اور ترکیہ کی سیاست پر ممکنہ اثرات
مشرقِ وسطیٰ کے دیگر اہم ممالک بھی ان تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں رہ سکیں گے۔ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، شام میں سیاسی و سلامتی کی صورتحال اور ترکیہ کا علاقائی کردار ایسے معاملات ہیں جن پر امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر امریکا ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور علاقائی جنگ کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو لبنان اور شام میں بھی سفارتی سرگرمیوں کے لیے گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر اسرائیل کی نئی قیادت بھی ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف سخت پالیسی جاری رکھتی ہے تو خطے میں محاذ آرائی برقرار رہ سکتی ہے۔
ترکیہ کے لیے بھی یہ تبدیلی اہم ہو سکتی ہے۔ انقرہ طویل عرصے سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مخالفت اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ امریکی کانگریس میں فلسطین کے حق میں زیادہ مؤثر آواز اور اسرائیل میں ممکنہ سیاسی تبدیلی ترکیہ کے لیے علاقائی سفارتکاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم امریکا، ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی و سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود رہیں گے۔
عالمی سیاست اور پاکستان کے لیے اہمیت
امریکا اور اسرائیل میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں عالمی طاقتوں کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ یورپی ممالک پہلے ہی غزہ کی صورتحال اور اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف سطحوں پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اگر امریکی کانگریس میں اسرائیل سے متعلق پالیسی پر زیادہ سخت نگرانی شروع ہوتی ہے تو یورپی اتحادیوں کے لیے بھی فلسطینی مسئلے پر زیادہ فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے۔ پاکستان کا مستقل مؤقف فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت پر مبنی ہے۔
پاکستان کے لئے نئے سفارتی مواقع پیدا ہونے کا امکان؟
واشنگٹن میں فلسطینی مسئلے پر سیاسی بحث میں شدت اور اسرائیل میں قیادت کی ممکنہ تبدیلی پاکستان سمیت مسلم ممالک کے لیے سفارتی سطح پر نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان ان حالات میں فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں مستقل جنگ بندی کے لیے عالمی سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ پاکستان کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی جنگ یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں، ترسیلاتِ زر اور پاکستان کی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے خطے میں امن اور سفارتی استحکام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں بھی ہے۔
کیا مشرقِ وسطیٰ میں واقعی نیا سیاسی دور شروع ہوگا؟
ٹرمپ اور نیتن یاہو کو انتخابی سطح پر پہنچنے والے دھچکے کو مشرقِ وسطیٰ میں فوری اور بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ امریکا میں صدر ٹرمپ مزید 2 سال تک وائٹ ہاؤس میں موجود رہیں گے اور خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں پر ان کا اثر برقرار رہے گا۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی حکومت سازی کے لیے واضح پارلیمانی اکثریت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث نیتن یاہو کی سیاسی واپسی یا کسی متبادل حکومت کے قیام دونوں امکانات موجود ہیں۔ تاہم ان انتخابی نتائج نے ایک اہم حقیقت ضرور واضح کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی داخلی سیاست اب مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں، فلسطینی مسئلے اور ایران کے ساتھ تعلقات سے الگ نہیں رہی۔ امریکی عوام کے معاشی خدشات کے ساتھ خارجہ پالیسی بھی انتخابی سیاست کا حصہ بن چکی ہے، جبکہ اسرائیل میں بھی سلامتی، جنگ اور سیاسی قیادت کے مستقبل پر اختلافات نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا ہے۔ اصل تبدیلی اس وقت سامنے آئے گی جب نئی امریکی کانگریس اپنے اختیارات استعمال کرنا شروع کرے گی اور اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اس کی خارجہ اور دفاعی ترجیحات واضح ہوں گی۔ اگر ان دونوں ملکوں میں سیاسی تبدیلی سفارتکاری، جنگ بندی اور فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل کی طرف پیشرفت کا ذریعہ بنتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی تبدیلی کے باوجود سلامتی کے پرانے تصورات اور عسکری ترجیحات برقرار رہیں تو خطے میں کشیدگی کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہونا مشکل ہوگا۔










