بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بینرجی کی رہائش گاہ کے باہر گزشتہ رات شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ بینرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی سالگرہ کی تقریب کے دوران ’بی جے پی کے غنڈوں‘ نے ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق، بینرجی کی کالی گھاٹ میں واقع رہائش گاہ کے باہر رات تقریباً 2 بجے اس وقت نعرے بازی اور ہاتھا پائی شروع ہوئی جب مبینہ طور پر تضحیک آمیز نعرے لگائے گئے۔ ڈائمنڈ ہاربر سے رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بینرجی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے غنڈوں نے ان کے حامیوں کو زمین پر پٹخ کر اینٹوں اور پتھروں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ابھیشیک بینرجی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کچھ افراد کو بینرجی کے پوسٹرز اور بینرز پھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ممتا بینرجی پر حملے کی کوشش کا الزام، پولیس نے خاتون کو پکڑ لیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ٹی ایم سی رہنما نے لکھا ’2دن کی مسلسل ریکی کے بعد، آج رات 2 بجے بی جے پی کے غنڈوں نے میرے گھر پر اس طرح حملہ کیا۔ یہ مناظر ویڈیو میں خود دیکھیں۔ اگر ایک منتخب رکنِ پارلیمنٹ کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، تو مغربی بنگال کے عام آدمی کی حالتِ زار کا اندازہ خود لگائیں۔ گزشتہ 6 ماہ میں یہ میری جان لینے کی ساتویں کوشش ہے، لیکن اس کے باوجود نہ پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی عدلیہ نے مداخلت کی۔ غنڈے پورے صوبے میں نڈر ہو کر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں کیونکہ عدلیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ خاموش تماشائی بنے رہنے پر مائی لارڈز کا شکریہ!‘
انہیں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے حامی ریوولور کے ساتھ آئے تھے اور وہ ’طے شدہ منصوبے کے تحت میری جان لینا چاہتے تھے‘۔
For the past two days few unidentified individuals have been conducting reconnaissance of my office and residence. The registration number of their motorcycle is mentioned below.
When confronted, they claimed to be police personnel.
Why is the State Police allegedly spying on and snooping around the office and residence of an elected Member of Parliament? Who authorised this surveillance and for what purpose?
I am immediately drawing the attention of the Hon’ble Speaker of the Lok Sabha @ombirlakota , @kolkata_police , @HMOIndia @WBPolice to this extremely serious matter.
I demand an immediate and thorough inquiry to establish the identity of these individuals, who sent them and to uncover the nefarious motive behind this suspected conspiracy.
— Abhishek Banerjee (@abhishekaitc) November 6, 2026
ابھیشیک بینرجی نے مزید بتایا ’ہمارے ایک ساتھی تاپش کا انگوٹھا اور اس کے قریب کا حصہ بری طرح کچلا گیا ہے۔ میں نے اسے ٹانکے لگوانے کے لیے اسپتال بھیجا، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ٹانکوں سے کام نہیں چلے گا اور پلاسٹک سرجری کرنا پڑے گی۔ ایک اور کارکن کے آنکھ کے نیچے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ انہوں نے پولیس کی موجودگی میں پتھر اور اینٹیں برسائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ان پر حملے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس سے قبل 19 جون کو بھی جب وہ دہلی سے واپس آ رہے تھے تو سونار پور کے قریب مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر ان پر جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، جنہیں کارکنان نے رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
ابھیشیک بینرجی نے کولکتہ کی ہائیکورٹ اور بھارتی سپریم کورٹ پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عالیہ اور اعلیٰ ترین عدالت اس تمام صورت حال میں محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ’ڈراما‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بنگال سے بی جے پی کے رہنما دلیپ گھوش نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا’ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ کسی رہنما کی سالگرہ سڑک کے فٹ پاتھ پر منائی جا رہی ہے! اگر کوئی آدھی رات کو نائسنس پیدا کرے گا تو احتجاج ہونا فطری بات ہے۔ ابھیشیک بینرجی کو مارنے کا وقت کس کے پاس ہے؟ ان کے پاس اب کوئی سیاسی بیانیہ نہیں بچا، اس لیے جذباتی ڈرامے بازی کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
After two days of continuous recce, this is how BJP hooligans attacked my house at 2 AM today. Watch the footage and see for yourself.
If this is what can happen to an elected Member of Parliament, imagine the plight of the common man in WB.
This is the seventh attempt on my life in the last six months. Yet, there has been no police action and no judicial intervention.
Hooligans are running riot across the state because the judiciary continues to turn a blind eye.
Thank you, Milords, for remaining mute spectators! 🙏🏻
— Abhishek Banerjee (@abhishekaitc) November 7, 2026
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس دعوے کے ایک دن بعد پیش آیا ہے جس میں ابھیشیک بینرجی نے الزام لگایا تھا کہ کچھ نامعلوم افراد پچھلے 2 دنوں سے ان کے دفتر اور رہائش گاہ کی ریکی کر رہے تھے۔ بینرجی کا کہنا تھا کہ جب ان افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے خود کو پولیس اہلکار بتایا۔ انہوں نے ریاست کی پولیس پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے پوچھا کہ منتخب رکنِ پارلیمنٹ کی جاسوسی کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟
انہوں نے اس معاملے کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، کولکتہ پولیس، وزارتِ داخلہ اور مغربی بنگال پولیس کے سامنے اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔











