توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے جج کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے: عمران خان

اتوار 9 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے جج کے اس فیصلے سے کہ معاملہ قابلِ سماعت  تھا، تعصّب اور بدنیتی واضح ہیں کہ الزام میرے سر تھونپا جائے اور انصاف کے اصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے مجھے خطاوار قرار دیا جائے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ اوّل تو ہائیکورٹ کی جانب سے اس اعلان کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہماری نظرِ ثانی کی استدعا منظور کرلی گئی ہے، کے ذریعے میرے وکلا کو گمراہ کیا گیا مگر جب تحریری حکم نامہ آیا تو معاملہ ازسرِنو کارروائی کے لیے پھر سے انہی جج صاحب کو بھجوا دیا گیا جو پہلے ہی ہمارے خلاف فیصلے کی صورت میں اپنی سوچ واضح کرچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میری درخواست پر فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو 7 یوم کی مہلت دی گئی اور میرے وکیل نے معاملے کو پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی مگر اس حقیقت کے باوجود کہ ’معاملے پر ہائیکورٹ کے اس حکمنامے کو‘ سپریم کورٹ کے روبرو چیلنج کیا جاچکا ہے جہاں اسے نمبر بھی لگ چکا ہے اور 7 روز کی مہلت ختم ہونے سے قبل اس کی عدالت عظمیٰ  میں سماعت کے امکانات بھی روشن ہیں، میرے وکیل کو سماعت کا موقع دیے بغیر نہایت عجلت میں 3 ہی روز میں فیصلہ صادر کر دیا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر دلچسپ تو یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ کے ان جج صاحب کے خلاف تعصّب کی بنیاد پر ہماری جانب سے دائر کی گئی درخواست پر غور کیا گیا اور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا بلکہ فی الواقع میری قانونی ٹیم کو سماعت کا موقع دیے بغیر ہی تمام معاملات نمٹائے جارہے ہیں جو کہ کسی بھی مقدمے پر منصفانہ کارروائی اور فطری انصاف کے اصولوں سے صریح انحراف ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان سب واقعات و حقائق سے میرے خلاف تعصّب اور جانبداریت کا ایک واضح سلسلہ کھل کر سامنے آتا ہے جس کی بنیادوں میں یہ ہدف پوشیدہ ہے کہ مجھے نااہل قرار دیا جائے اور ملکی سیاست سے باہر رکھا جائے۔

واضح رہے کہ 8 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا تھا۔

سماعت کے دوران عمران خان کے سینیئر وکیل خواجہ حارث کی عدم موجودگی پر جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ خواجہ حارث سینیئر وکیل ہیں، ان سے اس طرح کا رویہ نہیں توقع کیاجاسکتا، جج نے کہا توشہ خانہ کیس پر ہر پاکستانی کی نظر ہے۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن عدالت کو اس مقدمے کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں 7 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

یہ بھی واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کو 7 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کے تحائف اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے سے متعلق فوجداری مقدمہ درج ہے۔  الیکشن کمیشن پہلے ہی سابق وزیراعظم کو اثاثوں میں توشہ خانہ کے تحائف چھپانے پر ڈی سیٹ کر چکا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 137 اور 170 کے تحت فوجداری مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ توشہ خانہ کیس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں