جج کے اکاؤنٹ سے عمران خان کیخلاف پوسٹ کا معاملہ: ایف آئی اے نے رپورٹ جمع کرا دی

بدھ 2 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی تکنیکی تجزیاتی رپورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف فیس بُک پوسٹیں جج ہمایوں دلاور کے اکاؤنٹ سے نہیں کی گئیں۔

ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مبینہ فیس بک پوسٹوں کے اسکرین شارٹس کا کوئی یو آر ایل موجود نہیں، فیس بک ہر پروفائل، پیج اور پوسٹ کو خود بخود ایک یو آر ایل دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک پوسٹوں کی شناخت یو آر ایل کے بغیر اسکرین شارٹس سے ممکن نہیں، جج ہمایوں دلاور کے فیس بک اکاؤنٹ سے کی گئی تمام پوسٹوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج ہمایوں دلاور کے اکاؤنٹ سے مذکورہ 3 پوسٹوں میں سے ایک بھی موجود نہیں، ہمایوں دلاور کے نام سے اکاؤنٹ کا باقاعدہ یو آر ایل نمبر موجود ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہمایوں دلاور کا اکاؤنٹ 2014 میں بنا جس پر ذاتی پوسٹیں موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے 3 اسکرین شارٹس بھجوائے گئے۔ مبینہ اسکرین شارٹس میں سے دو 21 جولائی 2014 جبکہ ایک یکم مارچ 2014 کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں توشہ خانہ فوجداری کیس دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی عمران خان کی درخواست مسترد

واضح رہے کہ 18 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر علی نے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نام کا فیس بک اکاؤنٹ ہے جہاں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف پوسٹس لگی ہیں، کیس کسی دوسری عدالت منتقل کیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے جواب میں فیس بک اکاؤنٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اکاؤنٹ میرا ہی ہے لیکن یہ پوسٹیں میری نہیں، آپ کو نہیں چاہیے تھا کہ آپ اس کی فرانزک کرا کے یہ اعتراض کرتے؟ آپ نے میرے فیس بک اکاؤنٹ پر کیا یہ ساری چیزیں دیکھی ہیں؟

بیرسٹر گوہر علی نے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور کے نام سے فیس بک پیج کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کر دیں اور کہا کہ میں نے یہ ساری چیزیں اس فیس بک اکاؤنٹ پر دیکھی ہیں، بعد میں یہ پیج لاک ہو گیا، اس فیس بک اکاؤنٹ سے اس ملک کے بڑے لیڈر کے بارے میں باتیں کی گئیں۔

ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ اس کو آپ کسی ایسے فورم پر کیوں نہیں لے کے جاتے کہ اس کی تحقیقات ہوں؟ جس پر بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ آپ نے تسلیم کر لیا فیس بک آپ کا ہے اب فیس بک بند ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز

جاپان اور یونیسیف کا پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے طویل شراکت داری جاری رکھنے کا عزم

افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

عام تعطیلات: اگست میں 7 چھٹیاں ملیں گی، کچھ کو 12 بھی

‘میں خوبصورتی کے بنائے گئے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتی’، کبریٰ خان

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی