شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر، ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں، نگراں وزیراعظم انوار الحق

بدھ 6 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے یوم دفاع و شہداء پر مادر وطن کے لیے جانوں کے نذرانہ پیش کرنے والے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں اور ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں۔

نگراں وزیر اعظم انواز الحق کاکڑ نے اسلام آباد کے علاقے شکرپڑیاں میں واقع قومی یاد گار میں یوم دفاع و شہداء کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور یہاں یوم دفاع و شہداء کی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں کہ ہم اپنے شہداء کو بھولے نہیں ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ شہداء اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں جو ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہم شہداکی قربانیوں اور ان کے خاندانوں کے مقروض ہیں۔ اس قرض کی ادائیگی میں جو چھوٹا سا نذرانہ ہم پیش کرسکتے ہیں وہ ان کی اور ان کے پیاروں کی تکریم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہی وہ جذبہ ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے بھی اپنے اشعار کے ذریعے کیا۔ شہادت ایک عظیم رتبہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، محفوظ اسکول لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کیوں اہم ہیں؟

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘